تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 521
۵۰۶ کا انگریزی میں ترجمہ ہو جائے تو انگریزی جاننے والے ملکوں میں غیر مسلموں کو اسلام سے روشناس کرانے میں ایک نہایت اعلیٰ ذریعہ ثابت ہو گی۔۔دوسری کتاب یا کم از کم وہ دوسری کتاب ہو مجھے ملی ہے منزلی صاحب کی تصنیف اسلم جنگ ہے۔یہ کتاب " حدیث دفاع کی طرح براہ راست تو اسلام پر کوئی روشنی نہیں ڈالتی لیکن فوج کے ساتھ تعلق رکھنے والے زمانہ حال کے ہتھیاروں سے پبلک کو بہت عمدہ طور پر روشناس کراتی ہے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ پرانے زمانے میں جنگ کے جیتنے کے لیے ہو آلات ایجا د ہوئے تھے موجودہ زمانہ میں ان کو ترقی دے کر ایک ایسی شکل مل گئی ہے کہ دونوں میں موازنہ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔پہلے ایشیا جنگی ہتھیانوں میں ترقی کر رہا تھا مگر اب یورپ کی توجہ اس طرف ہو گئی ہے۔بلکہ امریکہ بھی اس دوڑ میں آگے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے اس ضمن میں انہوں نے جرمنی کی ان کوششوں کا بھی ذکر کیا ہے جو پچھلی جنگ کے جیتنے کے لیے اس نے کی تھیں اور ایسی باتیں لکھی ہیں مین سے پاکستان کی حکومت فائدہ اٹھا سکتی ہے۔چونکہ جرنیل صاحب دوسری عالمگیر جنگ میں بھی شامل رہے ہیں اس لیے ان کو نئے ہتھیاروں کا بھی خاص علم ہے۔یہیں سے فائدہ اٹھانا ان کی قوم اور ان کی حکورت کا فرمن ہے۔انہوں نے اس کتاب میں نئے ہتھیاروں کے متعلق بڑی بحث کی ہے غالب اپنے ہم اور ایٹم بم کے متعلق وہ کچھ نہیں لکھ سکے اس لیے کہ یہ دونوں ہم آج تک امریکہ کے فوجی محکمے کا راز رہے ہیں اور امریکہ نے آج تک حلیفوں کو بھی اس راز سے آگاہ نہیں کیا لیکن آہستہ آہستہ وہ راز پھیل رہا ہے اور اب شاید چند سال کی دریچہ لگے گی جس میں یہ راز عالمگیر سائنس بن جائے گا اور سب دنیا اس سائنس سے فائدہ اٹھانے لگ جائے گی۔خدا کرے میں طرح ایٹمی ہتھیاروں سے امن کے زمانے میں فائدہ اٹھانے کے لیے یو انجین بنائی گئی ہے اس میں عزیزم پر و فیسر عبد السلام کو جو پاکستان میں کام کرنے کا موقعہ ملا ہے اس طرح جنگی کاموں میں ایٹمی طاقت کے استعمال کرنے کے متعلق جو انجمنیں بنائی جائیں ان میں مزید پاکستانی سائنسدانوں کو کام کرنے کا موقع دیا جائے اور پاکستان بھی ایسا ہی مضبوط ہو جائے جیسا کہ دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں۔میں ان مختصر الفاظ پر اپنے ریویو کو ختم کرتاہوں اور پھر کہتا ہوں کہ ہمارے اہل ملک کو علمی امور سے تغافل کرنا چھوڑ دینا چاہیے۔بلکہ ان علوم سے واقفیت پیدا کرنے کے لیے ہر چھوٹے بڑے