تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 518 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 518

۵۰۳ کو بہت برا محسوس کیا اور سزا قبول کرنے کی بجائے میں کہیں باہر چلا گیا۔اب جب میں بڑھا ہو گیا ہوں تو مجھے یاد آتا ہے کہ اگر میں اپنے باپ کی بات مان لیتا تو اچھا تھا ئیں اس غلطی کا کفارہ ادا کر نے کے لیے روزانہ یہاں آتا ہوں تو دیکھو جن لوگوں کے دلوں میں احساس ہوتا ہے انہوں نے کوئی غلطی کی ہے یا یہ کہ ان کا کوئی فعل خدا تعالیٰ کے مقابلے میں غلطی کہلائے گا۔تو وہ اس کا کفارہ ادا کرتے ہیں آپ لوگوں کو بھی اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو خدا تعالے سے دعا کیا کریں کہ وہ اسے دور کرے لیکن اس تکلیف کے وقت دوسروں کو جانا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کوئی ماں اپنے بچے کو مار ہے تو وہ محلہ والوں کو بلانا شروع کر دے۔اگر وہ بچہ ماں کے مارنے کی وجہ سے روتا ہے تو ٹھیک ہے لیکن اگر دہ کہتا ہے محلہ والو دوڑو اور مجھے میری ماں سے بچاؤ یہ درست نہیں ہوتا اس طرح اگر تمہیں کوئی بات تکلیف دیتی ہے تو خدا تعالیٰ کے آگے گڑ گڑاؤ اور اس سے دعا کرو لیکن اگر کسی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور دہ دوسروں کے آگے واویلا شروع کر دیتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ لوگوں میں خدا تعالیٰ کا شکوہ کرتا ہے اور اس کی رضا پر راضی رہنا پسند نہیں کرتا صحیح طریق یہی ہوتا ہے کہ وہ اس تکلیف کو برداشت کرے اور خیر انتعالیٰ کے سامنے اس کے ازالہ کے لیے دعا کرتا رہے غر مین مورہ نازعات میں خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ مومن وہی ہے جو اپنے کام میں اس طرح محو ہو جائے کہ اسے اپنے گرد و پیش کا بھی علم نہ ر ہے گھر دو پیش سے ہٹ کر اپنے کام میں محو ہو جانے والا ہی سچا مومن اور اصل صداقت کو کھینچ لانے والا ہوتا ہے ہے حضرت مسیح موعود نے بجنات کے اجتماع میں سورہ کوثر کی لجنات سے ایمان افروز خطاب ایمان افروز تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ دشمن آنحضرت صلی | علیہ و سلم کو جسمانی اولاد تر یہ نہ ہونے کی وجہ سے ابتر قرار دیتا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہم نے محمد رسول اللہ کو اس اولا د سے بڑھ کرہ کو نہ روحانی اولاد) عطا کی ہے اور واقعات بتاتے ہیں کہ ابتر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دشمن ہوئے جن کا کوئی نام لیوا نہ رہا، حتی کہ ان کی اولاد بھی اُن پر لعنت بھیجتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولاد میں شریک ه ره وز نامه الفضل ریوه ۲۴ دسمبر ۱۹۵۷ء م۸۳