تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 517 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 517

۵۰۲ اٹھانے میں ایک فخر اور لذت محسوس کرتے تھے یہی طریق آپ لوگوں کا ہونا چاہیے اگر آپ لوگوں کو کوئی کھ پہنچے تو رویا چلنا یا نہ کریں جماعت کے بعض دوست ایسے ہیں کہ اگر کوئی ان کو گالی بھی دے دے تو وہ مجھے لکھنا شرو نا کر دیتے ہیں کہ ہم بہت سے مصائب میں مبتلا ہیں اور تحقیق پرمعلوم ہوتا ہے کہ وہ کہیں جار ہے تھے کہ راستہ میں آوانہ آئی کہ مرزائی بڑے کا فر ہیں لیکن حضرت عثمان بن مظعون کی آنکھ نکل جاتی ہے تکلیف سے وہ نڈھال ہو رہے ہوتے ہیں لیکن کہتے ہیں خدا کی قسم ! میری تو دوسری آنکھ بھی اس بات کا انتظار کر رہی ہے کہ کوئی دشمن اسے بھی چھوڑ دے۔حضرت عثمان بن مظعون کے اس شاندار نقرہ کا یہ اثر تھا کہ جب آپ فوت ہوئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے پھر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم فوت ہوئے تو آپ نے فرمایا جا اپنے بھائی عثمان بن مظعون کے پاس۔گویا آپ نے حضرت عثمان بن مظعون کو اپنا بیٹا قرار دیا اور ان کی یاد کو ایک لمبے عرصہ تک قائم رکھا تو دین کی راہ میں جو مصائب آئیں ان کا نتیجہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ لوگ ہمت ہار کر بیٹھ جائیں بلکہ ان کا نتیجہ ہیں اور زیادہ زور سے کام کرنا چاہیے سورت نازعات کی چند آیات میں نے ابھی پڑھی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے یہی بیان فرمایا ہے کہ مومن وہی ہوتا ہے کہ تو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنا سارا زور لگا دیتا ہے اور بس کام میں وہ لگا ہوا ہوتا ہے اس میں وہ غرق ہو جاتا ہے اگر واقعہ میں کوئی ایسی جماعت ہو تو اس کو کیا پتہ لگ سکتا ہے کہ اس کے ارد گرد کیا ہو رہا ہے دنیا میں ہمیں کئی لوگ ایسے نظر آتے ہیں کہ جن کے سامنے ان کے گھردن کو آگ لگ جاتی ہے تو انہیں اس کا علم تک نہیں ہوتا۔اور دوسروں سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہوگیا اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ کسی اور کام میں اتنے محو ہوتے ہیں کہ انہیں کسی دوسری چیز کا علم ہی نہیں ہوتا۔یہ حویت مختلف لوگوں میں مختلف رنگوں میں دکھائی دیتی ہے۔ڈاکٹر ڈانسن جنہوں نے انگریزی میں لفت لکھنی شروع کی تھی ان کے متعلق ان کے ایک دوست جو مشہور مصنف ہیں لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اس جگہ گیا جو ڈاکٹر ڈانسن کو بہت پسند بھی اور میں نے دیکھا کہ بارش ہو رہی ہے اور ڈاکٹر ڈانسن اپنا ہاتھ باہر نکا لے کھڑا ہے میں نے اس سے کہا ڈاکٹر یہ تم کیا کہ رہے ہو اس نے جواب دیا کہ میں شام کے بعد سے یہاں کھڑا ہوں اور روزانہ یہاں آکر کھڑا ہوتا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے ایک دفعہ کوئی غلطی کی تو میرے باپ نے مجھے سزا کے طور پر یہاں کھڑا کیا تھا میں نے اس منزا