تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 516
ال عمر پائی رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی وہ ایک لیے عرصہ تک زندہ رہا رسول کریم مل الہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں اس سے شعر سنا کرتے تھے اور صحابہ میں سے میں کسی کو کوئی رتبہ ملتا وہ اسے بلاتے اس سے شعر سنتے اور اسے انعام دیتے۔جب حضرت عثمان بن مظعون نے پناہ واپس کردی تو ایک دن لبید ملکہ آیا اور اس نے ایک محفل میں شہر سُنانے شروع کیسے حضرت عثمان بن مظعون بھی وہاں پہنچ گئے محفل میں بڑے بڑے روڈ سا بیٹھے تھے۔اور سب لوگ لبید کو داد دے رہے تھے شعر پڑھتے پڑھتے لبید نے یہ مصرع پڑھا الا كُلِّ شَيْ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ یعنی اے لوگو ! اچھی طرح سن لو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز تباہ ہونے والی ہے اس پر حضرت عثمان بن مظعون کہنے لگے " صدقت " بید تو نے سچ کہا ہے۔لبید کو یہ بات بہت بڑی لگی کہ وہ اتنا بڑا شاعر ہے اور یہ نوکر نوجوان اسے واد دے رہا ہے۔لیکن اس نے زبان سے کچھ نہ کہا اور یہ دوسرا مصرع پڑھ دیا وَكُلِّ نَعِيهِ لَا مَحالَةٌ زَائِلُ یعنی ہر نعمت آخر تباہ ہوجانے والی ہے حضرت عثمان بن مظعون بھی بول پڑے اور کہنے لگے گذشت تو نے جھوٹ بولا ہے جنت کی نعمتیں کبھی تباہ نہیں ہوں گی لبید کو اس بات سے آگ لگ گئی اور راسن نے کہا کہ کہ دالو تم کب سے بداخلاق ہو گئے ہو پہلے تو اس نوجوان نے مجھے داد دی اور پھر اس نے مجھے جھوٹا کہا میں اس کے باپ کے برابر ہوں اس کے لیے تو مجھے جھوٹا کہنا جائز نہیں تھا کیا تم اپنے بڑوں کی ہتک کرنے لگ گئے ہو مکہ والوں نے چونکہ اسے خود بلایا ہوا تھا اس لیے اسکی اس تقریر سے اشتعال پیدا ہو گیا۔اور ایک نوجوان نے غصہ میں حضرت عثمان بن مظعون کی آنکھ پر مکہ مارا جس سے ان کی آنکھ پھوٹ گئی انہیں پناہ دینے والا شخص وہیں موجود تھا اس نے یہ نظارہ دیکھا تو کہنے لگا عثمان کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم میری پناہ واپس نہ کرد مکہ والے تمہیں تنگ کریں گے لیکن تم نے میری بات نہ مانی اور پناہ واپس کر دی اب تم نے اس کا نتیجہ دیکھ لیا کہ تمہاری ایک آنکھ ضائع ہو گئی ہے حضرت عثمان بن مظعون نے کہا آخر کیا ہوا خدا کی قسم میری دوسری آنکھ بھی چلا چلا کر کہ رہی ہے کہ خدائے تعالیٰ کے رستے میں مجھے بھی چھوڑ دو۔یہ ان لوگوں کی کیفیت تھی جو اسلام کی راہ میں ڈکھ