تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 515
نے فرمایا کہ تمام لوگ جنگ کے لیے ملیں جب اسلامی لشکر روانہ ہو گیا تو وہ صحابی جنہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر کام کے لیے بھیجا ہوا تھا واپس آئے بنوان آدمی تھے نئی نئی شادی ہوئی تھی ایک عرصہ کی جدائی کے بعد جب وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے تو انہوں نے اپنی بیوی کو صحن میں بیٹھے ہوئے دیکھا وہ سید ھے اس کی طرف گئے اور اس سے بغل گیر ہونا چاہا مگر بیوی نے ان کی محبت کا جواب دینے کی بجائے ان کے سینہ پر زور سے دو ہتھڑ مارا اور پیچھے دھکا دے کر کہا خدا کا رسول تو میدانِ جنگ میں گیا ہوا ہے اور تمہیں اپنی بیوی سے پیار سوجھ رہا ہے خدا کی قسم جب تک محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم بخیریت واپس نہیں آجاتے میں تمہاری شکل تک نہیں دیکھوں گی وہ صحابی اسی وقت گھرتے نکل کھڑے ہوئے اور مدینہ سے تین منزل کے فاصلے پر اسلامی شکر سے جاملے اور پھر اسی وقت گھر واپس آئے جب رسول کریم ملی اللہ علیہ وسلم اپنے دوسرے صحابہ کے ساتھ مدینہ واپس لوٹے غرض یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ہر خطرہ کے مو قع پر اپنی جان کو بلا دریغ خطرہ میں ڈال دیا کوئی تکلیف اور دکھ انہیں نہیں پہنچا جسے انہوں نے تکلیف اور دکھ جانا ہو بلکہ جب بھی کوئی خدمت کا موقع آتا وہ جان بخوشی پیش کر دیتے۔حضرت عثمان بن مظعون کے متعلق تاریخ میں آتا ہے کہ ان کے باپ ایک بہت بڑے رئیس تھے وہ مکہ سے حبشہ ہجرت کر کے چلے گئے وہاں جب یہ افواہ پہنچی کہ مشرکین مکہ مسلمان ہو گئے ہیں تو وہ واپس آگئے واپسی پر ان کے باپ کے ایک دوست رئمیں نے انہیں پناہ دے دی جب انہوں نے مسلمانوں کو مظالم سہتے دیکھا تو انہوں نے اس پناہ کو واپس کر دیا اس رئمیں نے کہا دیکھو تم میری پناہ واپس نہ کرو۔اگر تم میری پناہ واپس کرد گے تو مکہ والے تمہیں تنگ کریں۔عثمان بن مظعون نے کہا جب میرے سامنے مسلمان غلاموں اور غریب مسلمانوں کو مار پڑتی ہے تو انہیں دیکھ کر مجھے بڑی شرم آتی ہے اور میرا دل مجھے ملامت کرتا ہے کہ تیرا بڑا ہو تیرے بھائی تو اسلام کی وجہ سے تکلیف اٹھارہے ہیں اور تم کسی ہمیں کی بنیاد میں رہ کر مزے کر رہے ہو تم اپنی پناہ واپس لے لو میرا دل آئندہ کے لیے ملامت نہ کر سے اس رئیس نے جواب دیا اگر تمہاری یہی مرضی ہے تو میں واپس لے لیتا ہوں۔چنانچہ اس رئمیں نے خانہ کعبہ میں جا کہ اعلان کہ دیا کہ آج میں عثمان بن مظعون کی پنا ہ واپس لیتا ہوں کہ میں یہ قاعدہ تھا کہ جب کوئی شخص کسی کو پناہ دیتا تھا تو اس شخص کو تو بھی تکلیف دیتا اسے پناہ دینے والے قبیلے سے لڑنا پڑتا تھا۔لیکن جب وہ اپنی پناہ واپس لے لیتا تو یہ قید اٹھ جاتی۔عرب کا ایک مشہور شاعر سید گزرا ہے وہ بعد میں اسلام بھی لے آیا اس نے ۱۷۰