تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 504 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 504

NAQ افسران تحریک جدید کے وکلاء اور اداروں کے افسر دوسرے ملکوں سے آئے مبلغین اور غیر ملکی طلباء کے علاوہ کریم چو ہدری اسد اللہ خالصا حب امیر جماعت احمدیہ جو سفیر انڈونیشیا کیسا تھ ہی ربوہ تشریف لائے تھے جی احمدیہ لاہور کے نائب امیر ڈاکٹر عبد الحق اور ڈاکٹر اعجاز الحق صاحب بھی شریک تھے۔پانچ بجکہ پانچ منٹ پر سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی تشریف لائے اور اس کے چند منٹوں کے بعد ہی معزز مہمان آگئے۔معزز مہمان کی تشریف آوری پر حاضرین نے کھڑے ہو کر محبت اور خلوص کے خاموش مظاہرہ کے ساتھ آپ کا استقبال کیا۔عصرانہ کی اس شاندار تقریب کا آغازہ مولوی بشارت احمد صاحب بیشتر نائب وکیل التبشیر کی نمادت سے ہوا اور اس کے بعد مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر نے انگریزی زبان میں سفیر محترم کی خدمت میں انگریزی ایڈریس پیش کیا۔اس ایڈریس کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ امر ہمارے لیے عزت اور فخر کا موجب ہے کہ ہمیں ان محترم کو ربوہ میں خوش آمدید کہنے اور آن محترم کا دلی خیر مقدم کرنے کا موقع ملا ہے۔ربوہ ایک نیا شہر ہے جو جلد جلد بڑھ رہا ہے۔یہ اگر چہ ظاہری زیب وزہ بہت سے محترمی ہے تاہم اسے یہ امتیانہ کی مشرف حاصل ہے کہ یہ ایک ایسا شہر ہے۔جسے ایمان واخلاص کے ایک عظیم اور یادگار معجزہ کی حیثیت حاصل ہے۔یہ اس روحانی در شہ سے مالا مال ہے جو نسیم اور روح کی ہر مزورت اور احتیاج کو بدرجہ اتم پورا کرنے کی ہر صلاحیت اپنے اندر رکھتا ہے۔اور جین کی بدولت وہ اقتدار میسر آتی ہیں جو صحت مند ، خوشحال، اور ترقی پذیہ نہ زندگی میں نظم وضبط بر قرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔یہ بستی اس عالمی تحریک کا مرکز ہے جو جماعت احمدیہ کے نام سے موسوم ہے اور جس کی بنیا د امام الزمان مسیح موعود حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلواۃ و السلام نے خدائی منشاء کے تحت اپنے ہاتھ سے رکھی تھی۔اگر چہ آپ کی آوانہ ایک تنہا انسان کی آوازہ تھی جو آج سے تقریباً ستر سال قبل خادیان کی بستی سے بلند ہوئی اور جس کا انبیاء ما سبق کے زمانوں میں پہلے سے قائم شدہ روایات کے مطابق لوگوں نے حقارت اور تمسخر کے ساتھ خیر مقدم کیا۔تاہم آہستہ آہستہ غریب اور پاکبان انسانوں کے دل مائل ہونے شروع ہوئے اور اُن سے بھیک بیک کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ان مخلصین نے میسیج پاک کے ہاتھ پر عہد کیا کہ وہ دنیا پر دین کو ہر حال مقدم رکھیں گے۔گنا می اور تنہا نی کے اس عالم میں جس کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کو الہام پاک کے ذریعہ خبر دی۔