تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 503
NAA سب کا حامی و ناصر ہے۔اور آپ کا قدم ہمیشہ کہتی اور یہود کی طرف اٹھتار ہے۔اور ہم سب کو یہ توفیق ملتی رہے۔کہ ہم اپنے اپنے دائرہ کار میں دین حق کی اشاعت دنیا میں امن کے قیام بنی نوع انسان کی بہتری اور فلاح کے لیے متحد اور مجمع ہو کہ کام کرتے رہیں۔آمین اللہم آمین ہم آپ کے دلی خیر خواہ اہل ربوہ " سفیر محترم نے اس کے جواب میں نہایت بر جستہ تقریبہ فرمائی جس میں جماعت احمدیہ کی دینی خدمات کا خاص طور پر اعتراف کیا اور پاکستان اور انڈینیشیا کے باشندوں کے درمیان دوستی یگانگت اور محبت پر نہ دور دیا لیے ۲۲ ستمبر کو صبح نو بجے اہل ربوہ کی طرف سے استقبالیہ کی تقریب میں شرکت کے بعد انڈونیشیا کے سفیر الحاج جناب ڈاکٹر محمد رشیدی صاحب - صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل البشیر کی معیت میں ربوہ کے تعلیمی ادارے دیکھنے تشریف لے گئے۔سفیر محترم نے جامعة المبشرین، تعلیم الاسلام ہائی سکول ، تعلیم الاسلام کا لج اور فضل عمر رسیرپ انسٹی ٹیوٹ کی عمارات کا معائنہ کیا اور اُن میں سے جو ادارے اس وقت تعطیلات کے بعد کھل چکے ہیں ان کے انسان سے ملے معزز مہمان تعلیم الاسلام کالج کی وسیع وعریض عمارت اور اس کے تعمیراتی پس منظر کو معلوم کر کے بہت مسرور ہوئے اسی طرح فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کو اس کے کام کی نوعیت اور انفرادیت کے لحاظ سے بہت پسند کیا۔گیارہ بجے طے شدہ پروگرام کے مطابق سفیر انڈونیشیا سید نا حضرت خلیفہ ایسیح الثانی امام جماعت احمدیہ کی خدمت میں تشریف لے گئے جہاں آپ نے قریبا پون گھنٹہ تک حضور سے ملاقات کی نہ اس موقعہ پر صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب اور سید شاہ محمد صاحب رئیس التبلیغ انڈونیشیا بھی موجود تھے۔پانچ بجے شام وکالت تبشیر نے تحریک جدید کے گیسٹ ہائرس کی موزوں اور خوبصورت عمارت میں سفیر انڈونیشیا کے اعترانہ میں ایک شاندار عصرانہ کا اہتمام کیا جس میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی بھی بنفس نفیس تشریف لائے۔اسی طرح صحابہ کرام ، صدر انجمن احمدیہ کے ناظران اور صیغہ جات کے سه روز نامه الفضل ۲۶ ستمبر ۶۱۹۵۷ ۲۳