تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 36 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 36

اس اعلان پر احباب جماعت نے نہایت کثرت اور تواتر سے اپنی بیش قیمت معلومات حضور کی خدمت میں بھجوائیں جنکو حضور کے حکم سے انہی دنوں الفضل میں ہمیشہ کے لئے ریکار ڈ کر دیا گیا۔حضرت مصلح موعود نے مخلصین حضرت مصلح موعود کے دوسری بصیرت افروز پیغامات جماعت کے پیغامات و شہادات نہی کو آنے والی نسلوں کے لئے ریکار ڈ نہیں کرایا بلکہ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ولولہ انگیز پیغامات بھی دیئے جو اس دور کی تاریخ احمدیت کا قیمتی سرمایہ ہیں۔حضور بیماری اور پیرانہ سالی کے باد تو خدا کے شیروں کی طرح میدان میں آگئے اور شمشیر بے نیام بن کر منکرین خلافت کے منصوبوں کا وسیع جال پاش پاش کر دیا اور خدا کی مظلوم جماعت قیامت تک ایک نہایت خطرناک اور ہلاکت آفرین فتنہ سے محفوظ ہوگئی جو حضور کے عہد خلافت کا ایک ایسا زندہ و تابندہ کارنامہ ہے جو ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ذیل میں ان تابی یخنی پیغامات میں سے بعض نہایت اہم اور ضروری پیغامات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔الفضل ۲۸ جولائی ۱۹۵۶ء میں امیر جماعت لاہور چوہدری اسد اللہ خان نیز لاہور کے اول بعض دوسرے اصحاب شیخ نصیر الحق صاحب ، عبدالمی صاحب، لطف الرحمن صاحب درد اور مسعود احمد صاحب خورشید اور سید بہاول شاہ صاحب کی نہایت اہم شہادتیں اشاعت پذیر ہوئیں جن سے مولوی عبد الوہاب صاحب عمر کی منافقت اور باغیانہ خیالات پر واضح روشنی پڑتی تھی۔ان شہادتوں پر حضرت مصلح موعود نے جو پیغام دیا اس میں علاوہ دوسرے امور کے یہ بھی تحریر فرمایا کہ " میں جماعت کو یہ بھی اطلاع دیتا ہوں کہ امیر جماعت لاہور کی تحقیقاتوں کے تیجہ میں دشمن کے کیمپ میں کھلبلی مچ گئی ہے اور انہوں نے چاروں طرف دوڑ دھوپ شروع کر دی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پس جماعت سمجھ لے کہ مضدوں نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔اب مومنوں کو بھی اپنے دفاع اور دشمن کے فتنہ کو مٹانے کی پوری کوشش کرنی چاہیے تاکہ وہ عمارت جو پچاس سال میں اپنا خون بہا کہ ہم نے کھڑی کی تھی اس میں کوئی رخنہ پیدا نہ ہو ؟ اسی پر چہ میں ظہور القمر صاحب ولد سری داس متعلم جامعتہ المبشرين ربوه مقیم بہت احمدیة دوم شحن سری کی مفصل شہادت شائع کی گئی جس میں اللہ رکھا کا صاحبزادہ مرزا ناصر احمد