تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 37 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 37

کے پیچھے نماز پڑھنے کی بجائے غیر مبایعین کی مسجد میں نماز پڑھنے کا ذکر تھا۔حضرت مصلح موعود نے اس پر حسب ذیل الفاظ میں تبصرہ فرمایا : ے اس شہادت کو پڑھ کر دوستوں کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ سب سازش پیغامیوں کی ہے اور ار رکھا انہیں کا آدمی ہے وہ مولوی صدر الدین غیر مبائع منکر نبوت مسیح موعود کے پیچھے نماز جائز سمجھتا ہے لیکن مرزا ناصر احمد جو حضرت مسیح موعود کا پوتا ہے اور ان کی نبوت کا قائل ہے اس کے پیچھے نمازہ جائز نہیں سمجھتا اور پیشنگوئی کہتا ہے کہ ایک دو سال میں پھر خلافت کا جھگڑا شروع ہو جائے گا۔موت تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر یہ فقرہ بتاتا ہے کہ یہ جماعت ایک دو سال میں مجھے فقتل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تبھی اسے یقین ہے کہ ایک دو سال میں تیری خلافت کا سوال پیدا ہو جائے گا اور ہم لوگ خلافت کے مثانے کو کھڑے ہو جائیں گے۔اور جب کوخلافت قائم کرنے سے روک دیں گے۔خلافت نہ خلیفہ اول کی بھی نہ پیغامیوں کی۔نہ وہ پہلی دفعہ خلافت کے مٹانے میں کامیاب ہو سکے نہ اب کامیاب ہوں گے۔اس وقت بھی حضرت خلیفہ اول کے خاندان کے چند افراد پیغامیوں کے ساتھ مل کر خلافت کو مٹانے کے لئے کوشاں تھے۔مجھے خود ایک دفعہ میاں عبدالوہاب کی والدہ نے کہا تھا۔ہمیں قادیان میں رہنے سے کیا فائدہ میرے پاس لاہور سے وفد آیا تھا اور وہ کہتے تھے کہ اگر حضرت خلیفہ اول کے بیٹے عبدالھی کو خلیفہ بنا دیا جاتا تو ہم اس کی بیعت کر لیتے۔مگر یہ مرزامحمود کہاں سے آگیا ہم اس کی بیعت نہیں کر سکتے وہی جوش پھر پیدا ہوا۔عبدائی تو فوت ہو چکا ہے اب شاید کوئی اور لڑ کا ذہن میں ہو گا جس کو خلیفہ بنانے کی تجویز ہو گی۔خلیفہ خدا تعالیٰ بنایا کرتا ہے اگر ساری دنیا مل کر خلافت کو توڑنا چاہیے اور کسی ایسے شخص کو خلیفہ بنانا چاہے میں پر خدا راضی نہیں تو وہ مزار خلیفہ اول کی اولاد مواس سے نوح کے بیٹوں کا سا سلوک ہوگا۔اور اللہ تعالیٰ اس کو اور اس کے سارے خاندان کو اس طرح پیس ڈالے گا جس طرح چیچکی میں دانے میں ڈالے جاتے ہیں۔خداتعالی نے نوج" جیسے نبی کی اولاد کی پر واہ نہیں کی۔یہ معلوم یہ لوگ خلیفہ اول کو کیا سمجھے