تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 35
۳۵ کیونکہ حضور ہی ہمارے بچے امام اور خلیفہ ہیں۔اللہ تعالی منافقین کے شر سے جماعت کو محفوظ رکھے۔اور حضور اللہ تعالٰی کی نصرت ومدد سے اپنے بلند مقاصد کی طرف بڑھتے چلے جائیں۔والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ۔ممبران جماعت احمدیہ خدا دوسرار قول اس پیغام کا یہ ہوا کہ مخلصین نے اس فتنہ سے متعلق بعض ضروری شہار میں اور معلومات حضور کی خدمت اقدس میں بھجوائیں۔جن سے فتنہ کے بہت سے پر اسرار پہلو نمایاں ہو کر سامنے آگئے۔اس سلسلہ میں ربوہ ، راولپنڈی اور لاہور کی جماعتوں نے غیر معمولی طور پر فرض شناسی کا ثبوت دیا۔جس پر حضور نے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے اعلان فرمایا۔منافقوں کے متعلق بعض نہایت ہی اہم راز اور ظاہر ہوئے ہیں جن میں سے بعض راولپنڈی کی جماعت نے مہیا کئے ہیں بعض ربوہ کی جماعت نے۔بعض لاہور کی جماعت نے جزا ہم اللہ خیرا۔تھوڑے دنوں میں ترتیب دے کر شائع کئے جائیں گے۔دوسرا رد عمل اور کی میں جن پیغامیوں کے متعلق نہایت معتبر رپورٹ ملی ہے کہ مقابلہ کی تیاریاں کر رہے ہیں جن کا نام وہ حضرت خلیفۂ اول کی اولاد کی محبت رکھیں گے مگر ان کے پاس ہمارا پر انا لٹریچر موجود ہے۔وہ اس طرح صرف ہمیں یہ موقع مہیا کر کے دیں گے کہ حضرت خلیفہ اول کو گالیاں دینے والے ان کی اولاد کے دوست ہیں۔پس وہ حملہ کریں ہم خوشی سے اس کا خوش آمدید کریں گے وہ صرف اپنا گند ظاہر کرنے کا ایک اور موقعہ ہم کو دیں گے اور کچھ نہیں۔آخر دنیا اس بات سے نا واقف نہیں کہ مولوی محمد علی صاحب مرحوم جن کے ذریعہ یہ جماعت بینی ہے یہ وصیت کی تھی کہ ایک خاص شخص ان کے جنازہ میں شامل نہ ہو نہیں وہ بے شک آئیں اور حملہ کریں اور سو دفعہ حملہ کریں۔ہمارے پاس بھی وہ سامان موجود ہے جس سے انشاء امر ان کے پول کھل جائیں گے۔اس عرصہ میں مختلف جماعتوں کے پاس جو معلومات ہوں وہ ہمیں مہیا کر دیں “ و السلام خاکسار - مرزا محمود احمد ۳۰/۵۶ له الفضل در نومبر ۱۹۸۶ وقت ترجمید من روزنامه الفضل ربوہ یکم اگست ۱۹۵۶ء صلا