تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 483
خاکسار مرز امحموداحمد خلیفه امسیح الثانی کے اس بصیرت افروز پیغام کا جرمن ترجمہ چو ہدری عبد اللطیف صاحب مبلغ جر مستی نے کیا یے مولوی محمد احمد صاحب مولوی فاضل بہت مخلص انیک مولوی محمداحمد صاحب کی دردناک شہادت اور خدمت خلق کا جذبہ رکھنے والے نوجوان تھے جو سید نا حضرت مصلح موجود کے محافظ خاص مکرم خان میر صاحب افغان کے بڑے بیٹے تھے۔نہایت درجہ خلیق ، ملنسار اور منکسر المزاج اور درویش طبع آپ ضلع کوہاٹ کے علاقہ تل میں میڈیکل پریکٹیشنر کی حیثیت میں مسلسل پندرہ سال سے عوام کی طبی خدمات سر انجام دے رہے تھے اور یہ جاننے کے باوجود کہ آپ جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں باوقار اور سنجیدہ طبقہ میں انہیں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔۱۹۵۶ء کا واقعہ ہے کہ ایک سرحدی ملاں نے کوہاٹ میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے اور فضا کو مکدر کرنے کے لیے اشتعال انگیز تقریر میں کیں اور عوام کو مولوی محمد احمد مرحوم کے خلاف اکسایا۔جب حکام بالا تک اس شر انگیزی کی رپورٹ پہنچی تو ان کی طرف سے مناسب کارروائی کی گئی اور گو وقتی طور پر به فتنه وب گیا مگر آتشین بغض و عناد اندر ہی اندر سلگتی رہی اور آزاد علاقے بعض شعلہ مزاج معاند اپنی خوفناک سازش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا مصمم ارادہ کر کے موقع کی تلاش میں لگے رہے۔یہاں تک کہ اس سال ۲۹ جون ۷ ۱۹۵ ء کا وہ منحوس دن آیا جبکہ عمل، ضلع کوہاٹ سے ۵ ۶ میل کے فاصلہ پر آزاد علاقہ کے ایک ملاں نے اپنے بعض عزیز وں کو مولوی محمد احمد مرحوم کے پاس بھیجا کہ وہ ایک مریض کے علاج کے بہانہ سے ان کو اپنے ٹانگہ پر بٹھا کہ اپنے گاؤں میں لے آئیں۔چنانچہ یہ ظالم جب مولوی محمد احمد صاحب کے پاس گاؤں آنے کی درخواست لے کر پہنچے تو انہوں نے بلا تامل کشادہ پیشانی سے ان کی درخواست منظور کرلی۔اور تانگے پر بیٹھ کر ان کے گاؤں کی جانب روانہ ہو گئے۔ایک سچے مسلمان کے دل میں ایک مریض بھائی کی خدمت کے جو محبت آمیز ه روزنامه الفضل بریوه ۲۶ جون ۱۹۵۰ ء ما :: له الفضل ۲۷ رجون ١٩٥٠ ء ما