تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 484 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 484

جذبات ہوتے ہیں وہ بھی مولوی صاحب مرحوم کے دل و دماغ میں موجزن تھے۔مگر نہیں کیا معلوم تھاکہ دہ کسی علاج کی غرض سے نہیں جارہے تانگہ میں بیٹھ کر آخرت کا سفر طے کر رہے ہیں اور یہ کہ ان کی ہمدردی کا بدلہ تشکر وامتنان کے الفاظ سے نہیں بلکہ رائفل کی گولی سے دیا جانے والا ہے۔بہر حال مولومی صاحب ۵ ۶ میل تک سفر کی صعوبتیں برداشت کر کے جونہی اس گاؤں میں پہنچے۔ملائے مذکور نے غضب ناک ہو کر کہا۔یہ قادیانی ڈاکٹر ہے۔میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔چنانچہ یہ کہتے ہیں اس نے آپ پر رائفل کا فائر کر دیا اور ایک لمحہ میں انسانیت کی جیتی جاگتی تصویر تڑپتی لاش میں تبدیل ہو گئی سا در احمدیت کا ندائی دین وملت کی آبیاری کے لیے اپنا مقدس خون پیش کر کے اپنے مولائے قیقی کے دربار میں حاضر ہو گیا اإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ یکم جولائی ۱۹۵۷ء کو بعد نماز فجر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مرحوم کی نماز جنازہ پڑھائی جس میں ایل بلو نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور آپ کو بہشتی مقبرہ میں سپرد خاک کیا گیا۔شہید مرحوم نے ایک ہیوہ اور چار بچے یادگار چھوڑ ہے جن کے نام یہ ہیں :- بی بی۔مریم سلطانہ صاحبہ (بنت عنایت اللہ خان صاحب افغان مرحوم ) اولاد : ۱- آصفہ بیگم صاحبہ (اہلیہ محمد رفیع خان صاحب ابن مریم مولانا محمد شہزادہ خالصا دب مرحوم مولوی فاضل استاذ مدرسہ احمدیہ قادیان) - حمید احمد خان صاحب ( ملازم پاکستان ائیر فورس حال رسالپور ) - مبشر احمد خاں صاحب (پاکستان سے باہر ملازم ہیں) آنسه بیگم صاحبه دہلی کے اخبار "ریاست نے در جولائی ۱۹۵۷ ء کی اشاعت میں اس حادثہ کی نسبت حسب ذیل نوٹ لکھا۔: ایک اور احمدی مذہبی تعصب کا شکار۔اُس سے پہلے پاکستان۔افغانستان اور دوسرے مالک میں سینکڑوں احمدی مذہبی اختلاف رائے کے باعث ہلاک کیسے جاچکے ہیں اور اب تازہ اطلاع ا الفضل ستمبر ١٩٥٧ وحث : س الفضل ۳ جولائی ۱۹۵۷ ء صفحه عنا