تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 426
زیادہ وقت نہیں دیتا کیونکہ میرے کام بہت اہم اور زیادہ ہیں لیکن آپ سے منا ان سب سے اہم ہے اس لیے آپ بیٹھیں۔یہ سن کر ہمیں بے حد خوشی ہوئی اور ہم اطمینان سے باتیں کرنے لگے۔قریباً پون گھنٹے کے بعد کہنے لگے آپ کی کتاب کبزان بہت اچھی ہے مختصر بھی ہے اور واضح بھی اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی وکیل نے لکھی ہے پہلے میں سمجھتا تھا کہ آپ نے یہ کتاب ارد دیا انگریزی میں لکھی ہو گی اور کسی ملایا کے باشندے نے اس کا ملایا زبان میں ترجمہ کیا ہوگا۔مگر اب بات چیت کر کے معلوم ہوا کہ یہ کتاب آپ نے خود لکھی ہے پھر احمدیت کے عقایدا در دوسرے مسلمان بھائیوں سے ہمارے اختلاف کے متعلق وہ بعض باتیں پوچھتے رہے اور یورپ اور امریکہ میں تبلیغ اسلام کے حالات دریافت فرماتے رہے حتی کہ رات دس بجنے کو آئے۔جو ہور سے آخری بس سنگا پور کے لیے پورے دس بجے روانہ ہوئی تھی مگر او کو صاحب نے اپنے ڈرائیور سے کہا کہ کا نہ نکالو کہ ان دونوں کو بس اڈے پر چھوڑ آئیں چنانچہ ا ونکو صاحب نے ہمیں کار میں بیٹھنے کا ارشاد فرمایا اور خود بھی ساتھ بیٹھ گئے اور دس پندرہ منٹ جو ہم کارمیں اکٹھے رہے وہ مجھے بار بار تاکید فرماتے رہے کہ میرے دفتر میں کل صبح ضرور آئے بھولنا نہیں میں اور کئی یا میں جماعت کے متعلق آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ہم بس اڈے پر پہنچے ، اور لین میں سوار ہونے کے لیے قدم رکھا ہی تھا کہ میں روانہ ہو گئی چنانچہ خدا تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے اور ان کو صاحب کے لیے دعائیں کرتے ہوئے تقریبا ہر 1 بجے شب ہم گھر پہنچ گئے۔جو مہور میں ریاست کے دفاتر عموماً ، بجے کھلتے تھے۔اس لیے خاکسارہ بجے سنگا پور سے روانہ ہوا اور قریباً 10 بجے محترم اونکو صاحب کے دفتر میں پہنچ گیا وہاں پہنچنے پر میں نے دو اور بزرگوں کو موجود پایا۔ایک محترم عبد اللہ بن عیسی تھے جنہیں ریاست کی طرف سے عورت افزائی کا خطاب داتور DAT SK) دیا گیا تھا اور ایک اور بزرگ جن کا نام عبدالرحمان بن یا بین تھا جو بعد میں پارلیمنٹ آن ملایا کے چیر مین منتخب ہوئے محترم ان کو صاحب نے انہیں مخاطب ہو کہ فرمایا کہ میں نے آپ دونوں کو اس وجہ سے بلایا ہے کہ آپ احمد یہ عقاید خود ان کی زبانی سنیں اور دوسرے اس وجہ سے بلایا ہے کہ آپ ان کی ملائی نہ بان بھی سنیں کہ کیسی فصیح اور بلیغ ہے پھر ہم دہاں بیٹھ گئے بارہ بجے سے اوپر تک گفتگو ہوتی رہی ماحول نہایت خوشگوار منھا اور خاکسار کی