تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 425 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 425

کریں تاکہ اگر وہ پونچھی کہ تم کون ہو تو آپ اپنا نام بناسکیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہیں کہ میرے ساتھ ایک اور آدمی بھی ہے اگر ہیں انہیں ٹیلیفون کروں گا تو مکن ہے میرا نام سن کہ وہ ملنے کا موقع نہ دیں چنانچہ برادرم موصوف نے ٹیلیفون کیا اور کہا کہ ہم آپ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔محترم اونکو صاحب نے کہا کہ بے شک آجائیں نگر میں صرف پانچ منٹ دے سکوں گا۔کیونکہ مجھے زیادہ فرصت نہیں ہے عبدالحمید سالکین نے مجھے کہا کہ ہم ڈیڑھ روپیہ جانے کا اور ڈیڑھ روپیہ آنے کا کرایہ ادا کریں گے لیکن دقت صرت پانچ منٹ ملے گا بظاہر جانے کا کوئی فائدہ نہیں میں نے کہا نہیں ضرور جانا چاہیئے کم از کم محترم اونکو صاحب سے تعارف تو حاصل ہو جائے گا اس پر ہم پبلک لائیبریری سے باہر نکلے ٹیکسی لی اور اذکور صاحب کے گھر پہنچے مکان دومنزلہ تھا اونکو صاحب کا لڑکا نیچے دروازہ پر کھڑا ہمارا انتظار کر رہا تھا حب ہم اس سے ملے تو اس نے کہا ابا جان کو مصروفیت بہت ہے جب پانچ منٹ ختم ہو جائیں تو خود بخود ہی اجازت لے کر چلے جائیں ہم نے کہا بہت اچھا وہ یہ کہ کر اوپر چلا گیا اور جاکر د نکونا کو اطلاع دی اور ایک دو منٹ کے بعد ہی ہم نے دیکھا کہ ایک خوبصورت معمر بزرگ شریف طبع ہنتے ہوئے چلے آرہے ہیں اور ان کے ساتھ ہی نوکر چائے لا رہا ہے۔ע سلام اور مصافحہ کے بعد اونکو صاحب نے ہمیں بیٹھنے کے لیے کہا ہم بیٹھ گئے اونکو صاحب نے برادرم عبد الحمید صاحب سے پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے اور کام کیا ہے۔جو انہوں نے بتایا۔اس کے بعدیر می طرف متوجہ ہو کر مجھ سے دریافت کیا میں نے کہا۔میرا نام محمد صادق ہے اور میں احمدیہ جماعت کا مبلغ ہوں “ یہ سن کر بہت خوش ہوئے کہنے لگے ” میں نے آپ کی کتاب کبزان (صداقت) پڑھی ہے اور ایک دفعہ نہیں دو دفعہ پڑھی ہے بعض امور کے متعلق میں آپ سے دریافت کرنا چاہتا تھا۔اچھا ہوا کہ آپ خود آگئے۔یہ سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ایک رومنٹ باقی تھے انہوں نے چائے پینے کے لیے فرمایا اور ہم نے چائے پینا شروع کر دی وہ روسٹ بھی ختم ہوئے تو ہم اکٹھے کھڑے ہوئے تاکہ اجازت لے کر واپس چلیں مگر دن کو صاحب نے فرمایا نہیں آپ بیٹھیں ہیں سمجھا تھا کہ کسی اخبار کے رو نمائندے آر ہے ہیں۔میرے پاس عام طور پر اخباروں کے نمائندے آتے رہتے ہیں اور کرید کریدہ کہ ریاست کے حالات پوچھتے ہیں اور پھر جا کہ اخباروں میں شائع کر دیتے ہیں۔اس لیے میں نے یہ اصول بنایا ہوا ہے کہ اخبار کے نمائندوں کو پانچ منٹ سے