تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 427 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 427

باتوں کو غور سے سنتا جارہا تھا وہ قرآنی آیات اور احادیث سنکر بہت حیران ہوئے اور کہا کہ ہم اسکے متعلق پوری تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔پھر محترم اونکو صاحب نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ محکمہ شرعیہ جو سور کے لیے جماعت احمدیہ کا لٹریچر خریدا جائے میں نے کہا بہت اچھی بات ہے اس کے بعد اونکو صاحب نے احمدیت کے متعلق مزید تحقیقات شروع کردی اور سلسلہ 1904 کے لٹریچر کا وسیع مطالعہ شروع کر دیا۔یعنی کہ آپہنچا ان پر لائف آف احمد (مصنفہ مولانا درد مرحوم) کا بہت اثر تھا اس کی بڑی تعریف کرتے رہے۔محترم اونکو صاحب نے لٹریچر کا مطالعہ برابہ جاری رکھا اور آخرت املاء کے ابتداء میں مجھے ایک دفعہ کہا کہ میں جب آپ کی باتیں سنتا ہوں تو مجھے یقین ہوتا ہے کہ آپ صحیح اور سچی بات کہہ رہے ہیں لیکن جب میں مفتی صاحب رعلومی بن طاہر الحداء) کے پاس جاتا ہوں تو وہ کوئی نہ کوئی شبہ پیدا کر دیتے ہیں۔اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ کو اور ان کو اپنے سامنے بٹھا کر گفتگو کراؤں اور دو چار آدمی بھی بلائے جائیں آپ کا کیا خیال ہے کیا آپ گفتگو کے لیے تیار نہیں ؟ میں نے جواب دیا کہ میں تیار ہوں بے شک آپ مفتی صاحب موصوف سے وقت اور دن مقرر کروالیں اور مجھے اطلاع کر دیں۔چنانچہ انہوں نے مفتی صاحب سے مل کر انہیں تبادلہ خیال کے لیے تیار کر لیا اور دن اور وقت مقرر کر کے دو تین دن پہلے مجھے اطلاع کر دی۔اونکو صاحب محترم کے لیے بھی اور میرے لیے بھی یہ نازک موقعہ متھا اس لیے میں نے اپنے مولیٰ سے دعا کرنی شروع کی کہ الہی تو میری مدد کرنا اور میری راہنمائی فرما نا تا کہ مجھ سے ایسی کوئی غلطی یا کمزوری سرزد نہ ہو جو محترم اونکو صاحب کو صحیح راستہ سے دور لے جائے۔میں مین گیارہ بجے دن کے رمقررہ وقت پر سنگا پور سے جو ہورہ پہنچ کر اونکو صاحب محترم کے دفتر میں پہنچ گیا۔انہوں نے گھنٹی بجائی۔اور دفتر کا کلرک آیا اور دونکو صاحب نے فرمایا جاؤ اور جاکر مفتی صاحب سے کہو کہ محمد صادق احمدی مبلغ آگئے ہیں آپ بھی تشریف لے آئیں۔اس وقت تین اور معزز آدمی بھی اس گفتگو کو سننے کے لیے وہاں پہنچ چکے تھے۔کلرک گیا اور واپس آگہ کہنے لگا کہ مفتی صاحب تو سنگا پور تشریف لے گئے ہیں اور کہ تمھتے ہیں کہ آپ کی خدمت میں اطلاع کہ دی جائے۔یہ خبر سن کہ محترم اور نکو صاحب کو بہت رنج ہوا اور بار بار کہتے رہے کہ وعدہ