تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 29 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 29

۲۹ چاہتے۔مولوی محمد صدیق صاحب نے جو اس کا بتایا ہوا پتہ لکھا ہے۔کوہاٹ کی جماعت نے دفتر کو بتایا کہ اسی جگہ کے رہنے والے چند نام نہاد احمدیوں کا اس نے نام لیا اور کہا کہ انہوں نے مجھے کرایہ دے کر جماعتوں کے دورے کے لئے بھجوایا ہے۔مولوی محمد صدیق صاحب کے بیان سے ظاہر ہے کہ وہ مزید دوروں کے لئے پھر رہا ہے۔چوہدری فضل احمد صاحب جو نواب محمد دین صاحب مرحوم کے رشتہ کے بھائی ہیں اور نہایت مخلص اور نیک آدمی ہیں۔انہوں نے مجھے بتایا کہ مجھے بھی ایک دن روک کر کھڑا ہو گیا تھا اور کہتا تھا میں ملک بھر میں بھر رہا ہوں۔سربی را ولپنڈی کے بیان کے مطابق میاں عبدالوہاب صاحب نے اس کو ایک خط دیا تھا جس میں لکھا تھا کہ تم ہمارے بھائیوں کی طرح ہو اور ہماری والدہ بھی تم سے بہت محبت کرتی تھیں۔اگر ایسا کوئی خط منتھا تو به بیان با لکل جھوٹ اور افتراء ہے۔کیونکہ میاں عبد الوہاب کی والدہ اس شخص کو جانتی بھی نہ تھیں۔کیونکہ وہ ربوہ میں رہتی تھیں اور یہ شخص قادیان میں تھا اور جماعت کی پریشانی کا موجب بن رہا تھا۔نیز وہ تو وفات سے قبل ذیا بیطس کے شدید حملہ کی وجہ سے نیم بے ہوشی کی حالت میں پڑی رہتی تھیں۔اور ان کی اولاد ان کو پو چھنتی تک نہ تھی۔اور میں ان کو ماہوار رستم محاسب کے ذریعہ سے علاوہ انجمن کے حضرت خلیفہ اول کی محبت اور ادب کی وجہ سے دیا کر تا تھا۔بلکہ جب میں بیمار ہوا۔اور یورپ گیا تو ان کی نواسیوں کو تاکید کر گیا تھا۔کہ ان کی خدمت کے لئے نوکر رکھو جو خرچ ہو گا ہمیں ادا کروں گا۔بہر حال ایک طرف تو جماعت مجھے یہ خط لکھتی ہے کہ ہم آپ کی زندگی کے لئے رات دن دعائیں کرتے ہیں۔چنانچہ ایک شخص کا خط مجھے آج ملا کریں تئیس سال سے آپ کی زندگی کے لئے دعا کر رہا ہوں۔دوسری طرف جماعت اس شخص کو سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے جو میری موت کا متمنی ہے آخر یہ منافقت کیوں ہے۔کیا میاں عبدالوہاب کا بھائی ہونا محض اس وجہ سے ہے کہ۔وہ شخص میری موت کا معملتی ہے ؟ا کوئی تعجب نہیں کہ وہ مری میں صرف اس نیت سے آیا ہو کہ مجھ پہ حملہ کر رہے۔جماعت کے دوستوں نے مجھے بتایا ہے کہ جب ہم نے اس کو گھر سے نکالا کہ یہ پرائیویٹ گھر ہے تمہیں اس میں آنے کا کوئی حق نہیں۔تو اس نے باہر سڑک پر کھڑے ہو کر مشور بجانا شروع کر دیا۔تاکہ اردگرد کے غیر احمدیوں کی ہمدردی حاصل کرے۔اب جماعت خود ہی فیصلہ کرے کہ میری موت