تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 28 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 28

فصل دوم حضر مصلح موعود کا انقلاب آفریں پیغام اوراسکا زبردست رد عمل سیدنا حضرت مصلح موعود نے مولوی محمد صدیق صاحب کا خط موصول ہوتے ہی جماعت احمدیہ کے نام ایک فوری پیغام لکھوایا۔جو الفضل ۱۲۵ جولائی ۱۹۵۶ء کے صفحہ اوّل وصت پر مع مولوی صاحب مومون کے خط کے شائع کیا گیا۔یہ پیغام ایک مصور اسرافیل تھا جس نے دنیا بھر کی احمدی جماعتوں میں ایک مستر بپا کر دیا۔اور دوسری طرف یکایک فتنہ منافقین کے چہرہ۔نقاب سیرک گیا۔اور منکرین خلافت کی منافقانہ اور باغیانہ سرگرمیوں کے اثرات کی دھجیاں فضا آسمانی میں بھر کر رہ گئیں۔حضور کے اس حقیقت افروز اور انقلاب آخرین پیغام کا متن یہ تھا اللہ رکھا شخص ہے جس نے قادیان کی جماعت کے بیان کے مطابق قادیان میں فساد مچایا تھا۔اور بقول ان کے قادیان کے درویشوں کو تباہ کرنے کی کوشش شروع کر دی تھی اور جب قادیان کی انجمن نے اس کو وہاں سے نکالا تو ان کے بیان کے مطابق اس نے بھارتی پولیس اور سکھوں اور مہندوؤں سے جوڑ ملایا اور قادیان کے درویشوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔جتنا وہ اس کو قادیان سے نکالنے کے لئے کوشش کرتے رہے اتنا ہی یہ بھارتی پولیس کی مدد سے قادیان میں رہنے کی کوشش کرتا رہا۔کوہاٹ کی جماعت کے نمائندوں نے ابھی دو دن ہوئے مجھے بتایا کہ پیشخص کو ہاٹ آیا تھا۔اور وہاں اس نے ہم سے کہا تھا کہ جب خلیفہ المسیح الثانی مر جائیں گے تو اگر جماعت نے مرنا ناصر احمد کو خلیفہ بنایا۔تو میں ان کی بیعت نہیں کروں گا۔ہم نے جوابا کہا کہ مرزا ناصر احمد کی خلافت کا سوال نہیں۔تو ہمارے زندہ خلیفہ کی موت کا متمنی ہے۔اس لئے تو ہمارے نز دیک جنیت آدمی ہے یہاں سے چلا جا ہم تجھ سے کوئی تعلق نہیں رکھتا