تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 30
کا متمنی آپ کا بھائی ہے یا آپ کا دشن۔آپ کو دوٹوک فیصلہ کرنا ہوگا۔اور یہ بھی فیصلہ کرنا ہو گا کہ جو اس کے دوست ہیں وہ بھی آپ کے دوست ہیں یادشمن۔اگر آپ نے فوراً دوٹوک فیصلہ نہ کیا تو مجھے آپ کی بیعت کے متعلق دو ٹوک فیصلہ کرنا پڑے گا۔اس مضمون کے شائع ہونے کے بعد جس جماعت اور جماعت کے افراد کی طرف سے اس دشمن احمدیت اور اس کے ساتھیوں کے متعلق برأت کی چھٹیاں مجھے نہ ملیں تو میں ان کے خط پھاڑ کر پھینک دیا کروں گا۔اور ان کی درخواست دعا یہ توجہ نہ کروں گا۔یہ کتنی بے شرمی ہے کہ ایک طرف میری موت کے متمنی اور اس کے ساتھیوں کو اپنا دوست سمجھنا اور دوسری طرف مجھ سے دعاؤں کی درخواست کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔جماعت کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہیئے کہ تذکرہ میں پسر موعود کے متعلق جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات شائع ہوئے ہیں ان الہامات کے خاص خاص حصے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پرائیویٹ طور پر حضرت خلیفہ اول کو کیوں لکھے ؟ آخر مستقبل سے کچھ تو اس کا تعلق تھا۔کیوں نہ حضرت صاحب نے سب باتیں سبز اشتہانہ میں لکھ دیں اور کیا وجہ ہے کہ پر منظور محمد صاحب موجد قاعدہ میسر نا القرآن نے جو حضرت خلیفہ اول کے سالے بھی تھے۔جب حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں پسر موعود سپر ایک رسالہ لکھا تو اسپر حضرت خلیفہ اول نے یوں ریویو کہا کہ میں اس مضمون سے متفق ہوں۔کیا آپ نہیں دیکھتے کہ میں مرزا محمود احمد کا بچپن سے کتنا ادب کرتا ہوں۔اس تبصرہ کی بھی کوئی حکمت تھی۔اس کی کا پیاں اب تک موجود ہیں اور غالباً حضرت خلیفہ اول کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے ریویو کا چربہ بھی اب تک موجود ہے ، خدا کے برحق اور موعود خلیفہ کے اس پیغام نے پوری جماعت کو تڑپا دیا۔جس کے نتیجہ میں مشتاق خلافت کی طرف سے واضح طور پر دو زبر دست رد عمل رونما ہوئے۔پہلا تو عمل یہ ہوا کہ جماعت کے ہر فرد میں نظام خلافت سے محبت والفت پہلا ر و عمل اور منافقین سے بیزاری کے شدید جذبات ابھر آئے اور پوربہ ہی دنیا ئے۔ن روزنامه الفضل ۲۵ جولائی ۱۹۵۶ء صداوه۔