تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 403 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 403

۳۸۸ کبر برے کالی مسلم و بیشتر سکول مردوئی مسلم سکول، پکولو مسلم اسکول BNGHHE-NABAGEREHA مسلم اسکول سینٹر سکول اور دیگر متعد د سکولوں میں لیکچررز نے اساتذہ اور طلباء کو تبلیغ کی اور لٹریچر تقسیم کیا۔سنڈل میں اور کہا کا کی جیل میں متعد د رتبہ گیا لیکچر دیئے۔تبلیغ کی اور لٹریچر دیا۔محترم بھائی فضل اپنی صاحب بھی خاکسار کے ساہمن جیلوں میں جاتے رہے COMBI میں اسلام کے فضائل پر لیکچر دیا جس میں تمام اقوام کے لوگ شامل تھے بینڈی میں جلسہ میلاد النبی کے موقعہ پر ایک ہی دن میں دو دفعہ لیکچر دیا۔وہاں کی جماعت کے امام نے ہر طرح سے تعاون کیا اور خود بھی افریقن میں لٹریچر تقسیم کیا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے یوگنڈا میں با وجود و ذرائع کی کمی کے ہماری تبلیغ بہت وسیع ہوگئی ہے سکولوں کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔افریقن کا اعلیٰ اور تعلیم یافتہ طبقہ احمدیت کی طرف مائل ہے۔جماعت کی ہر طرح سے امداد کرتا ہے۔معلم ذکر یا صاحب معلم موسیٰ صاحب متعدد مرتبہ میرے ساتھ افریقن ریزرو میں دورہ پر جاتے رہے ڈاکٹر احمد صاحب ، بھائی فضل الہی صاحب، ڈاکٹر احمد دین صاحب بھی افریقی ریز رد میں تبلیغ کرنے کے لیے گئے جس نے بہت اچھا اثر ہوا۔علاقہ MUTANHURA اور مساکہ اور YOGUR کا متعدد مرتبہ خاکسار نے دورہ کیا۔خلاصہ ۱۲۰۰ شہر دن اور دبیات کا دورہ گیا۔۔۔امیل کے قریب سفر کیا۔۱۶ پبلک ٹیچر دیئے جن کی مجموعی حاضری ۳۰۰۰ کے قریب تھی ۴۰۰ کے قریب معززین سے ملاقات کر کے تبلیغ کی۔۵۰۰ افراد کو انفرادی تبلیغ کی۔یکصد کے قریب خطوط لکھے۔۱۲ مضامین لکھے۔جو لوگنڈی اخبارات میں شائع ہوئے۔۲۰۰۰ پمفلٹ انگریزی۔سواحیلی اور لو گنڈی میں تقسیم کئے ۱۴ افراد بیعت کر کے داخل سلسلہ ہوئے۔جن میں سے بعض اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور با اثر و رسوخ لوگ ہیں۔جماعتی کاموں میں نہایت جانفشانی سے حصہ لیتے ہیں۔یوگنڈا کے دوست ڈاکٹر احمد صاحب بھائی فضل اپنی صاحب، معلم موسی ذکریا ، شعبان کر دنڈے، شیخ زید جنجہ بھٹو کو کیا کا ممنون ہوں۔بوت تبلیغی اور نہ ہی کاموں میں کوشاں رہے، یہ له روزنامه الفضل داده و رمئی ۵ را مورد