تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 359
۳۴۴ ROCKFELLER Foundation U-5-A-) پرو فیسر امیر اٹش آن مبینا سونا یونیورسٹی PROF۔EMERITUS OF MINESOTA) UNIVERSITY) پر وفیسر پر دونوں نے ۳۰ جنوری ۱۹۵۶ء کو کالج یونین سے خطاب کیا جس میں پاکستانی طلبہ کے علمی ذوق ر شوق کی بہت تعریف کی۔یہ تقریر روسی زبان میں تھی جس کا ترجمہ ان کے سیکر ٹری مسٹرا سے جی مارگنوں نے انگریزی میں کیا۔تقریر کے بعد خاصی دبیر تک سوالات کا سلسلہ جاری رہا۔جو زیادہ تر سائنسی امور سے متعلق تھے لے ر تنوری سمت کو امریکی سائنسدان امی۔سی سٹیکین نے اور زراعت اور سائنس کے موضوع پر تقریر کی۔اور بتایا کہ سائنس کی موجودہ ترقی کی وجہ سے اگر چہ بہت سی مہلک اشیاء معرض وجود میں آئیں سائنس کے بل پر سی اسم اس قابل ہوئے ہیں۔کہ ان پر پوری طرح قابو پا سکیں۔نیز اس دور میں جبکہ انسانی آبادی ہر سال دس کروڑ کی تعداد میں بڑھ رہی ہے۔ہمارے لیے غذائی صورت حال سے پیٹنا بہت مشکل امر ہتھا۔لیکن سائنس نے اس مشکل کا حل بھی ہمیں بتا دیا ہے۔اور ہم اس قابل ہو گئے ہیں۔کہ سائنسی تحقیقات کے نتیجہ میں تھوڑی زمین سے زیادہ غلہ حاصل کر سکیں۔آپ کی تقریب کے بعد صدر مجلس پر دھیر ڈاکٹر نصیر احمد خان صاحب۔ایم۔ایس سی نے فرمایا کہ اکثر لوگ موجوده یا آئندہ رونما ہونے والی متوقع صورت حال کا حل یہ بناتے ہیں کہ بر منھ کنٹرول ، BIRTH ) (CONTROL کیا جائے تاکہ آبادی میں ترقی کی روک تھام کی جا سکے۔ہمیں خوشی ہے کہ پر وفیسر صاحب نے اس منفی حل کی بجائے ایک صحیح اور قابل عمل حل پیش کیا ہے۔اس تقریب کے بعد ان سائنسدانوں نے حضرت مصلح موعود کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔اور دونوں کو قرآن پاک کا انگریزی ترجمہ پیش کیا گیا۔جسے انہوں نے خوشی سے قبول کرتے ہوئے کہا کہ دہ اسکا مطالعہ کر کے قرآنی علوم سے استفادہ کریں گے یہ بقیه حاشیه) ENDOCRINOLOGY CLINIC کے سربراہ بھی رہے (THE REVIEW OF RELIGIONS, FEBRUARY, 1956 PAGE: 108) له الفضل اور جنوری ۱۹۵۶ء صات : ان الفضل بیکم فروری ۱۹۵۶ء مدارم