تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 324 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 324

خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے اجازت لینے اور ملنے کے لئے گئے حضور نے فرمایا آپ طالب علمی کے زمانہ میں نہ جائیں۔آپ نے اسی وقت ارادہ نسخ کر دیا۔زمانہ طالب علمی سے شیخ بشیر احمد صاحب سے دوستی تھی اس زمانہ میں ہر روز ایک خط شیخ صاحب لکھتے اور ایک خط مولوی صاحب ان خطوں میں بہت اعلی درجہ کی علمی بسیں ہوتیں کبھی بے ثباتی دنیا زیر بحث ہوتی کبھی غالب کے کسی شعر پر تنقید۔دونوں دوست ایک دوسرے کو بڑی پیاری نصیحتیں کرتے۔نهایت اعلیٰ درجہ کے مقرر تھے ایک دفعہ اسلامیہ کالج لاہور کی طرف سے آل انڈیا نفر یری مقابلہ میں حصہ لینے کے لیے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ بھیجے گئے۔اول آئے ایک بہت بڑا کپ سونے اور چاندی کے تمغے انعام میں لے کر آئے۔مولوی صاحب نے بی اے ایل ایل بی کرنے کے بعد حیدر آباد دکن میں دو سال وکالت کی ایک دفعہ اعظم صاحب نے آپ سے ایک قانونی مشورہ کیا اس کے بعد اعظم صاحب نواب اکبر جنگ صاحب کے پاس پہنچے نواب صاحب نے فرمایا ہماری فیس پانچ سوروپیہ ہو گی اعظم صاحب نے مولوی صاحب کی رائے پیش کی نواب صاحب نے فرمایا رائے بالکل درست ہے۔عبدالخالق صاحب مہتہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے میٹرک پاس کیا میرے والد حضرت بھائی عبد الرحمن نصاب قادیانی پریشان تھے کہ اب لڑکے کو کسی لائن میں ڈالیں۔مولوی عبدالسلام صاحب مل گئے کہنے لگے بھائی جی عبد الخالق میرا بھائی ہے آپ بالکل پریشان نہ ہوں میں اس کو علی گڑھ سے جاؤں گا اور سلم یونیورسٹی میں داخل کرا دوں گا۔چنانچہ مولوی صاحب نے ایسا ہی کیا عبد الخالق صاحب مہتہ نے بیان کیا کہ مسلم یونیورسٹی کی تعلیم کی وجہ سے پھر اللہ تعالی نے مجھے اعلی تعلیم کے لیے امریکہ جانے کی توفیق بخشی اگر مولوی صاحب میری رہنمائی اور دستگیری نہ کرتے تو شاید میں کہیں چھوٹی موٹی کلر کی کر لیتا اور ان ترقیات سے محروم رہ جاتا جو خداتعالے نے مجھے بعد میں عطا کیں۔سندھ کے ایک بڑے زمیندار اور تروں کے سردار میاں عبدالو کامیاب عمر کے پاس آئے کہنے لگے ہیں اپنے بیٹے کی بیعت کرانی چاہتا ہوں انہوں نے کہا آپ کو احمدیت کی طرف توجہ کیسے ہوئی ؟ کہنے لگے مولوی عبدالسلام صاحب کو دیکھ کہ میں نے کہا وہ کیسے کہنے لگے ان کو خدا تعالیٰ پر بڑا تو کل ہے بعض دفعہ ان کو زمین کی قسطیں ادا کرتی ہوئیں ان کے پاس کوئی روپیہ نہ ہوتا مگروہ کبھی نہیں گھر میں نے کہا