تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 325 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 325

۳۲۵ مولوی صاحب میں روپیہ دے دیتا ہوں مگر وہ کبھی قبول نہ کرتے اور میں نے دیکھا آخری وقت اللہ تعالیٰ کوئی نہ کوئی انتظام کر دیتا۔چنانچہ میاں عبدالوہاب نے ان کے لڑکے کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں بیعت کے لیے بھجوا دیا موادی عبد السلام کے ذریعہ سندھ کے کئی معزز زمیندار سلسلہ میں داخل ہوئے ان کی زندگیاں جو لہو و لعب میں گزر رہی تھیں اعلائے کلمتہ الاسلام میں خرچ ہونے لگ گئیں۔روزنامه الفضل ربوه ۸ را بپریل ۱۹۵۶ ء م د مه ر مضمون میاں عبدالوہاب صاحب عمر ) میاں عبد السلام صاحب عمر کی شخصیت گونا گوں خصوصیات کے باعث بہت ہی قابل احترام تھی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو تحریر و تقریر کا غیر معمولی ملکہ عطا کیا تھا نہ صرف یہ کہ آپ فصیح اللسان خطیب تھے بلکہ صاحب طرز انشا پر داز بھی تھے۔اور دونوں میں آپ کو یکساں مہارت تھی نہایت بہ جستہ اور دلپذیر تقریر کرتے تھے۔زمانہ طالب علمی میں کالجوں کے متعدد آل انڈیا مباحثوں میں شریک ہوئے اور اس دوران کئی طلائی کپ اور بڑا فیاں جیتیں۔ان میں یہ وصف نمایاں تھا کہ وہ ہر ایک کو گرویدہ کر لیتے اُن کی ذات خدا پرستی غیرت دینی اور حمیت اسلامی کا نمونہ تھی۔وہ ایک باد صنع انسان اور با مردت دوست تھے۔سادہ اور در دیشا نہ طبیعت رکھتے تھے۔اور ساتھ ساتھ نہایت شگفتہ مزاج بھی تھے۔ملکی تقسیم کے بعد آپ اکثر نواب شاہ دسندھ) اپنی زمینوں کے انتظام وانصرام میں منہمک رہتے لیکن جب کبھی جلسہ سالانہ یہ باگھر میں کسی تقریب پر ربوہ تشریف لاتے تو اپنے دوستوں سے اس قدر خلوص سے بغلگیر ہوتے جیسے کوئی دلی غمگسار مدتوں بچھڑنے کے بعد ملا ہے۔پھر نہایت پیار و محبت سے تمام حالات دریافت فرماتے۔آپ میں یہ بھی خصوصیت تھی کہ کبھی کسی کی دل آزاری یا تکلیف دہی پسند نہ کرتے تھے بلکہ بنی نوع انسان کی ہمدردی کا بے لوث جذ بہ ہر وقت آپ کو بے قرار رکھنا تھا۔قادیان جانے کی تڑپ ہمیشہ دامنگیر رہی کمزوری و بیماری کے باوجود یہی شوق آپ کو دو دفعہ قادیان کی زیارت کے لیے کشاں کشاں لے گیا آخری مرتبہ اس سالانہ جلسہ پر تشریف لے گئے تھے۔اور اس موقعہ پہ آپ کی ایک نہایت کامیاب نظریہ ہوئی جو غیر سلام طبقہ میں بھی بے حد پسند کی گئی۔19ء میں آپ کی عزیز ترین خواہش کہ وہ دیار جیب میں حاضر ہو کر حج بیت اللہ شریعت