تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 323 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 323

فرمایا۔چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح اول نے اپنی (غیر مطبوعہ) ڈائری میں تحریر فرمایا :- ۲۵ دسمبر نہ سعیدہ نے اطلاع دی۔لڑکا پیدا ہوا ہے۔جلسہ بڑی جامع مسجد میں تھا وہاں اطلاع ہوئی تو سب نے یکدم مبارکباد کی صدا بلند کی۔الحمد للہ الحمد للہ۔الحمد لشد رب العالمین۔امام نے عبد السلام نام رکھا والحمدللہ ابتدائی تعلیم قادیان میں حاصل کی اور ایل ایل بی علی گڑھ یونیورسٹی سے کیا۔الفضل ۲۷ مارچ ۱۹۵۶ عرصه : الفضل ۲۸ مارچ ۱۹۵۶ ( ص ۳ ) مولوی صاحب کی طبیعت بچپن سے ہی نیکی کی طرف مائل مفتی تین سال کے تھے کہ حضرت خلیفہ اول کو کہا۔ابا میرے لیے دعا کرد حضرت خلیفہ ایسی اول نے دعا کی تو کہا ہا تھ اٹھا کر دعا کرو پھر دعا ہا تھ اٹھا کر کی تو کہا نمانہ پڑھ کر ہا عقد اٹھا کر دعا کرو۔ہوا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو روپیہ بھی دیا اور بہت کثرت سے دیا مگر آپ نے ہمیشہ درویشانہ زندگی بسر کی۔20 ء جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ایک شخص نے کہا مولوی صاحب آپ نے اتنا سستا ٹھا پہنا ہے۔اتنی سادگی بھی اچھی نہیں کہنے لگے میاں جسم ہی ڈھانکنا ہے تھوڑی دیر کے بعد ایک غریب احمدی ملے اُن سے پوچھا جلسہ سالانہ پر جا رہے ہو انہوں نے جواب دیا نہیں پوچھا کیوں۔کہنے لگے۔کر یہ نہیں ہے مولوی صاحب نے جیب میں ہاتھہ ڈال کران کو کچھ رقم دے دی انہوں نے بغیر گئے جیب میں ڈال لی بعد میں دیکھا تو پچیس روپے تھے۔قادیان کے بعض قدیم احباب مولوی صاحب سے امداد لینے ان کے گاؤں نور پور متصل نا کھا روڈ ضلع نواب شاہ سندھ میں پہنچ جایا کرتے مولوی صاحب ان کی آمد سے بہت خوش ہوتے ان کو آمد درخت کا کرایہ بھی دیتے اور امداد بھی کرتے اور کہا کرتے بھائی تم بہت با ہمت ہو کہ اس دور افتادہ گاؤں میں پہنچ گئے۔حضرت اماں جی نے بتایا کہ مولوی صاحب بچے تھے کہ نواب محمد علی خاں صاحب کی کو بھی تشریفت لے گئے اور نوا صاحب سے ایک پیسے کی بھینس مانگی۔نواب صاحب نے تورا وہ بھینس مولوی عبد السلام صاحب کے ساتھ ان کے گھر بھجوادی۔ایک دفعہ ڈر کی جانے کا اراہ کیا۔پاسپورٹ بنوایا سامان بندھا ہوا تھا ٹانگہ کھڑا تھا سیدنا حضرت