تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 296 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 296

۲۹۶ نہیں مارتے۔کیونکہ حدیث نبوی میں اس کے خلاف ہے۔اور اگر کسی طالب علم کو نارامن ہوتے تو فوراً استغفار اور لاحول پڑھتے۔کبھی طالب علموں کو گالی نہیں دی اور اگر دیتے توصرف اتنا کہتے اور وہ آدمی ہے یا کیا ہے ؟۔یا بہت ناراض ہوتے تو کہدیتے اگر ھے۔اس پر بھی فورا استغفار کرتے۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ایسے اساتذہ سے طالب علم ڈرتے نہیں۔مگر میں نے خوب دیکھا کہ مولانا کا ضبط جماعت پر ہمیشہ اسلی درجے کا رہا۔اور طالب علم ڈرتے رہتے۔مولانا کو قرآن کریم سے از حد محبت ہے۔بلکہ ایک عشق ہے۔خالی وقت میں قرآن کریم پر تہ تہ کرتے ہیں۔مولانا نے بعض قرآنوں پر ہزاروں مرتبہ پڑھا ہوگا۔اگر حصہ قرآن کریم کا حفظ ہے۔بیماریوں کی وجہ سے سارا قرآن حفظ نہ کر سکے۔تاہم بہت حد تک حافظ ہیں۔مولانا اکثر طالبعلموں کو قرآن کریم حفظ کرانے کی کوشش کرتے اور بلکہ بارہا فرماتے کہ قرآن کریم حفظ کرنا مشکل ہی نہیں۔ہر روز دو تین آیت حفظ کر لیں اور ان کوشن اور نوافل میں اور ونزوں میں پڑھتے رہے۔حبب خوب حفظ ہوگئیں پھر آگے کی آیتیں حفظ کرلیں اور حقیقت میں یہ طریق نہایت ہی عمدہ ہے۔اس سے مولانا کی محبت قرآنی کا پتہ چلتا ہے۔مولانا نے جب پہلی شادی کی تو حضرت خلیفہ اول۔۔۔۔کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہتے تھے۔میں اس وقت ان سے سلسلیۃ القراۃ العربیہ کا پہلا حصہ پڑھتا تھا۔مولانا کے گھر میں چلا جایا کرتا تھا کیونکہ میں اس وقت بچہ تھا۔میں نے دیکھا کہ مولانا کی شادی کو ابھی دو تین دن ہی ہوئے تھے۔مگر مولانا اپنی بیوی کو روزانہ با قاعدہ قرآن کریم ترجمے سے پڑھاتے تھے۔میں با ان کی اندرون خانہ زندگی پہ اس سے زیادہ بحث نہیں کر سکتا کیونکہ اس وقت مجھکو زیادہ شعور نہ تھا۔تاہم مجھ کو خوب یاد ہے کہ مولانا نے شادی کے بعد معا ہی اپنی مرحومہ ہودی کو قرآن کریم پڑھانے لگ گئے تھے اور اگر ان کے گھر میں کوئی بات ہوتی تو قرآن کی۔ان کا گھر نہایت ہی مختصر اشیاء کا مجموعہ تھا۔چند مٹی کے برتن اور ایک رولکڑی کے صندوق تھے مگر اس میں میں نے دیکھا کہ میاں ہوتی میں ازحد اخلاص تھا میں مختلف در قنوں میں مولانا کے ہاں گیا۔میں نے کبھی نہ دیکھا مگر دونوں کو علمی اور دینی مشغل ہیں۔نئی شادی عجیب امنگوں کو لے کر آتی ہے مگر قادیان کی زندگی جو کہ ملکوتی زندگی ہے اگر ایک نوجوان دولہا اور دلہن کو کوئی بات سکھلاتی ہے تو وہ قرآن کریم ہے۔مولوی صاحب کو خدا تعالیٰ نے توفیق دی کہ قادیان میں مکان بنایا۔اس کا اکثر حصہ مولوی صاحب نے خود ہی بنایا۔مکان کیا ہے ایک جھونپڑا ہے۔سامنے اس کے نہایت بے ترتیب ایک درختوں کی