تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 295
۲۹۵ ساتھ اپنے بچالیتے اور تھوڑی دیر بعد پانی پی لینا۔اس طرح سے میں نے ان کو مدتوں کرتے ہوئے دیکھا، در کبھی ان کو قلت آمد کا شاکی نہ پایا۔مولانا فرائض منصبی کی ادائیگی کا ہمیشہ خیال رکھتے ہیں۔مدرسہ میں تعلیم دیتے ہیں آندھی ہو بارش ہو سردی ہو گرمی ہو ، مولانا مدرسہ میں موجود رہتے بلکہ آدھ گھنٹہ سکول کے وقت سے پہلے ہی موجود ہو جاتے مولوی صاحب پر بعض سخت ترین بیماریاں حملہ کرتی رہیں اور ان بیماریوں میں بھی کبھی مولانا کو رخصتین لیتے ہوئے ہیں دیکھا۔ایک دفعہ گھٹے پر پھوڑا نکل آیا اور مولا نا چل نہیں سکتے تھے۔مدرسہ کے ایک کمرے میں بیٹھے رہتے ، وہاں جماعتیں آجاتیں۔یہ کرہ احمدیہ بازار میں صدر انجمن کے دفتر کی سیڑھیوں کے نیچے ہے جس میں حافظ حامد علی صاحب دکان کرتے تھے۔کرسی پر بیٹھے رہتے اور وہیں بیٹھے بیٹھے درس دیتے اور کرسی پر ہی نماز پڑھتے۔میں نے ان کو سخت تکلیف میں بھی وضو سے نماز پڑھتے پایا۔اسی طرح ایک دفعہ مولانا حضرت خلیفہ اول۔۔۔کے مکتب کے پاس ایک چھوٹا سا مکان ہے اس میں بیمار تھے۔جگر کی بیماری تھی سخت بدبودار و والی جس کے تعفن سے میرا دماع متقبل جاتا تھا چھاتی پر لگائے ہوئے نہایت صبر سے پڑے رہتے اور باقاعدہ طالب علموں کو درس دیتے - ان بیماریوںمیں میں نے کبھی خدا کا شاکی نہ پا یا جگہ ہمیشہ تین لفظ ان کے منہ سے سنے۔رحم کرم۔فضل۔ان کی اس قدر تکرار کرتے کہ پڑھاتے پڑھاتے ان کے منہ سے بے اختیار یہ لفظ نکل جاتے۔اسی طرح کی پھر ایک دفعہ پیار ہوئے تو مدرسہ احمدیہ کے بورڈنگ میں لیٹ کر پڑھاتے۔مگر میں نے نہیں دیکھا۔کہ کبھی انہوں نے رخصتوں کے لیے درخواست دی ہو۔اور اسی طرح پر بھی نہیں دیکھا کہ ان کو تکلیف ہے تو انہوں نے درس میں کوتا ہی کی ہو۔بلکہ صحت اور بیماری میں یکساں درس دیتے۔طالب علموں سے کام کرانے کا عادت قطعاً ان میں نہیں ملتی بوجہ غربت کے ابتداء میں مولانا کے پاس برتن نہ تھے ایک چائے بنانے والی کمیٹی تھی۔اس میں دال یا چا دل الگ اُبال لیتے یا کھچڑی پکا لیتے۔اور کبھی کسی طالب علموں کو نہ کہا کہ تم پکا دو۔یا یہ کہ د اورده کرد - اپنے کپڑے اکثر اوقات خود دھو لیتے۔اب جبکہ مولانا نے دارالعضل میں ایک مکان بنایا تو آتا وغیرہ خرید کر اور خود ہی اٹھا کر لے جاتے اور کبھی کسی طالب علم کو یہ نہیں کہا کہ تم اٹھا کرے چلو۔طالب علموں کو مارنے کی مولانا کو بہت کہ عادت ہے۔اور اگر کبھی کسی کو مارا بھی تو منہ پڑھا اپنے کومارا