تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 262
۲۶۲ ایسی تفسیر بیان کی گئی ہے جو کہ ہر اہل علم کے دل در ماغ کو سنا کر کیے بغیر نہیں رہ سکتی۔اس تغیر کو پڑھنے سے میرے وہ شکوک زائل ہو گئے ہو کہ عیسائی محققین کی گفتگو سے میرے ذہن میں پیدا ہو گئے تھے۔میں نے تحقیق اور مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ جماعت احمدیہ فی الواقع الہی جماعت ہے۔اس جماعت میں صحابہ کرام کا سارنگ ہے اور یہ جماعت حقیقی معنوں میں نقومی شعار جماعت ہے اس جماعت کے افراد بلند ہمت اور اولو العزم ہیں۔اور موجودہ زمانہ میں اسلام کی خاطر طرح طرح کی تکالیف برداشت کرتے ہیں لیکن پھر بھی صبر در ضنا اور توکل علی اللہ سے کام لیتے ہیں۔یہ جماعت بظا ہر چھوٹی سی ہے لیکن فولاد کی طرح مضبوط ہے۔اسلام کی راہ میں مال جان عزت وقت ہر چیز قربان کرنے کہ تیار رہتے ہیں۔اس جماعت نے اشاعت اسلام کی خاطر دنیا کے بیشتر ملکوں میں مراکز قائم کر رکھے ہیں۔اور یہ جماعت مبلغین بھیج کر دنیا میں اسلام کو سر بلند کرنے میں مصروف ہے۔تکلیف اور اذیت کے مقابلہ میں صبر سے کام لینا اس جماعت کی خصوصیت ہے۔سیدنا حضرت مرزا غلام احمد سیح موعود - اور امام مہدی علیہ السلام نے فی الواقع ایک جدید علم کلام کی بنیاد ڈالی ہے۔آپ نے اسلام کی سیو تصویر پیش کی ہے اور روح، جنت، جہنم ، ملائکہ، حیات بعد الموت وغیرہ کی جو حکمت بیان فرمائی ہے دہ موجودہ زمانہ کے حالات کے عین مطابق ہے اور ہر ماڈرن اہلِ علم کو اپیل کرتی ہے۔آپ اتنے عید معمولی علم کے مالک ہیں کہ ایک عام آدمی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ان باتوں کو دیکھ کہ ہمیں متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔بالخصوص مسلمان فرقہ احمدیہ کے تقویٰ اور صحابہ کرام جیسے عزم صمیم نے مجھے سب سے زیادہ متناثر کیا۔1929ء میں مجھے فری میسن ہونے کی پیش کش کی گئی ہجو کہ عام طور پر بہت بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے۔لیکن میں نے انکار کر دیا اور مسلمان فرقہ احمدیہ میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔۱۹۶۰ء کے لگ بھگ میں نے بیعت کرلی۔میں نے مختلف انگریزی تراجم قرآن کا مطالعہ کیا ہے۔میرے نزدیک محمد مارما ڈیوک پکٹ صال کا انگریزی ترجمہ قرآن بھی اچھا ہے۔Mohammad Marmaduke Pickthall لیکن حضرت مولانا شیر علی صاحب کا ترجمہ اس سے بہتر ہے اور بہت عمدہ ہے۔لیکن حضرت مصلح موعود خلیفة المسیح الثانی کی تفسیر مشتمل ترجمہ قرآن سب سے نرالا ہے۔میرے نزدیک حضرت خلیفہ ثانی پیغمبر