تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 261 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 261

٢٩١ بعد میں آپ نے سوئٹزر لینڈ، ٹرینیڈاڈ ، پورٹ آف سپین اور دیگر کئی ملکوں میں انڈین ہائی کمشنر کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔محرم شناسی صاحب کو شروع سے مطالعہ اور تحقیق کا شوق تھا۔اسی غرض سے آپ برٹش قونصل بھی جایا کر تے تھے اور ان کے کتب خانہ سے استفادہ کیا کرتے تھے۔عیسائیوں کے ساتھ دینی مسائل پر گفتگو بھی ہوتی رہتی تھی۔مکرم شناسی صاحب کہتے ہیں کہ ایک طرف تو میں اپنے علماء کی کم علی اور کھوکھلی باتوں سے نالاں تھا اور دوسری طرف عیسائی اقوام کی حیرت انگیز ترقی اور علمی بزنیری مجھے اثر اندا نہ کر رہی تھی اور مکن تھا کہ میں عیسائیت کو قبول کر کے پروتستان (PROTESTENT ) ہو جاتا۔عیسائی اسلام پر سخت حملے کر رہے تھے۔وہ مجھے کہتے کہ نعوذ باللہ تمہارا دین حقیقت سے خالی ہے۔وہ ہمارے مقدس دین پر ایسے اعتراضات کرتے تھے کہ جن کا میرے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ہمارے علماء دین پنے سفلی علم کی بناء پر عیسائیوں کے اعتراضات کا جواب دینے سے عاری تھے۔اس پر یشانی کی حالت میں میری ملاقات مکرم برکات احمد صاحب کے ساتھ ہوئی۔آپ انگریزی کے علاوہ عربی اور فارسی کے بھی ماہر تھے۔آپ نے بالکل نئے انداز میں عیسائیوں کے اعتراضات کے جوابات مجھے سمجھائے۔آپ روائتی طور پر کسی دینی مدرسہ کے فارغ التحصیل تو نہ تھے پھر بھی آپ کا دینی علم اتنا وسیع تھا کہ آپ عام ملاؤں کو سبق پڑھا سکتے تھے۔میرے نزدیک مکرم برکات احمد صاحب کا علم شنتی علماء سے زیادہ تھا۔آپ نے حضرت سید نا مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفة المسیح الثانی المصلح الموعود” کی تفسیر کے انگریزی ترجمہ کا ایک نسخہ مجھے دیا۔یہ کتاب پڑھ کر میری عقل دنگ رہ گئی۔میں حیران تھا کہ کیا یہ تفسیر کسی ایک ہی شخص کی لکھی ہوئی ہے۔مجھے یوں لگتا تھا کہ تمام علوم کے چوٹی کے ماہرین کے ایک بورڈ نے علماء دین کی ایک جماعت کے ساتھ مل کر یہ تفسیر لکھی ہے۔اس تفسیر میں اسلام پر ہونے والے اعتراضات کا مدلل جواب دیا گیا ہے اور دنیا کے چوٹی کے سائنس دانوں اور فلسفیوں کے نظریات پر بحث کر کے ان کی غلطیوں کی نشاندھی کی گئی ہے اور تاریخ ، جغرافیہ، منطق، فلسفہ ، سائنس غرضیکہ ہر نکتہ نظر سے قرآن کریم کی