تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 260 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 260

تے رہے۔نے انقرہ یونیورسٹی کے شعبہ لسانیات و السنہ شرقیہ میں حاصل کی۔یونیورسٹی میں مسٹر عبد الرب یلغار نامی ایک ہندوستانی آپ کے زبان فارسی کے استاد تھے۔۱۹۲۷ء میں یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوئے۔تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے وزارت خارجہ حکومت ترکی میں ترجمان کے طور پر کام کیا۔بعدازاں وزارت تعلیم میں بھی خدمات سرانجام دینے کا موقع میسر آیا۔آپ نے کچھ عرصہ مری سکول میں انگلش ٹیچر کے طور پر بھی فرائض سر انجام دیئے۔اسی طرح جنگ آن انوسٹمنٹ (BANK OF INVESTMENT ) میں بھی مصروف کار رہے۔۹۲ء میں آپ ایک اعلی سطحی سرکاری وند کے ساتھ بطور ترجمان امریکہ گئے اور سان فرانسسکو میں قیام فرمایا۔علاوہ ازیں آپ کو مختلف فرائض کی انجام وھی کی خاطر دو مرتبہ انگلستان جائے اور لمبا عرصہ وہاں قیام کرنے کا موقع بھی ملا۔اسی طرح آپ سوئٹزر لینڈ بھی تشریعت لے گئے اور کافی عرصہ تک وہاں مقیم رہے۔آپ کی عمر کا زیادہ حصہ وزارت خارجہ کے شعبہ مطبوعات و ترجمہ میں سیر ہوا۔چنانچہ آپ ۱۹۳۳ء سے لے کر 1907 ء تک مسلسل وزارت خارجہ میں سرکاری ترجمان کے طور پر فرائض سرانجام ایک موقع پر آپ نے ڈاکٹرز کی ولیدی طوگان DRZEKT) VELID TOGAN کی ایک کتاب کا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا۔یہ صاحب استنبول یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ میں پر وفیسر تھے۔انہوں نے آپ کو یونیورسٹی میں لیکچر شپ کی پیشکش کی لیکن آپ نے خرابی صحت نیز بعض اور وجوہات کی بناء پر معذرت کر دی۔مکرم شناسی صاحب کے چار بہن بھائیوں میں سے ایک بھائی مکرم حمدی صاحب وفات پا چکے ہیں۔حمدی صاحب ڈاکٹر تھے۔1979ء میں ان کی وفات ہوئی۔دوسرے بھائی مکرم محمود صاب انقرہ میں مقیم ہیں اور اس وقت دیوان محاسبات ) Audit Department) میں فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔تیسرے بھائی مکرم کمال صاحب ۱۰۸۰۴۰ د انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ) سے ریٹائر ہونے کے بعد اس وقت ورلڈ بینک World Bank میں کام کر رہے ہیں اور فلپائن میں مقیم ہیں۔مکرم شناسی حسن صاحب کی ہمشیرہ محترمہ مودیم خانم ( SEYIM HANIM) ما بہ انقرہ میں ہیں۔مکرم شناسی حسن صاحب کو قبول احمدیت کی توفیق مکرم سید برکات احمد صاحب کے ذریعہ نصیب ہوئی۔تجبر ۴۹ - ۱۹۴۸ ء میں انقرہ میں سہندوستان کے پریس تاشن تھے