تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 259
۲۵۹ پر میں معافی کا خواستگار ہوں لیکن ایسا کرنے میں میرے مدنظر یہ امر تھا کہ ماضی اور حال کی روشنی میں شاید ایک نامور اسلامی ملک کی روحانی حالت کا تذکرہ آپ کے لیے دلچسپی اور توجہ کا موجب ہو سکے۔یہ میری دلی خواہش ہے کہ احمدیت نے جو قابل تعریف مثال قائم کی ہے۔لیکن دوسرے مسلمانوں کو بھی اس کی پیروی کرتے ہوئے دیکھوں۔ہاں اسی احمدیت کی جو صحیح معنوں میں اسلام کی ایک روشن اور درخشندہ صورت ہے۔اور موجودہ ترقی یافتہ دنیا کی ضروریات کو بخوبی پر راکر سکتی ہے۔آخر میں ئیں آپ کے مقدس ہاتھوں کو بوسہ دیتے ہوئے آپ سے التجا کرتا ہوں کہ آپ مجھے اپنی دعاؤں بوسہ دیتے ہو۔میں یا درکھیں۔آپ کا ادنی خادم شناسی میرا نفرہ۔ترکی لے اس مکتوب کے چند سال بعد 11ء میں محترم شناسی میر صاحب بیعت کر کے داخل احمدیت ہو گئے۔آپ جمہوریہ تمہ کی کے پہلے احمدی ہیں۔ڈاکٹر محمد حلال شمس صاحب انچار ج ترکش شناسی حسن سی بر صاحب کے مختصر حالات اور خدمات ہیں کہ :۔ڈیسک اسلام آبا د دلندن کے تحریر فرماتے ہمارے ترک احمدی بزرگ مکرم شناسی حسن سی بر صاحب ترکی میں اس وقت جماعت احمدیہ کے معمر ترین بزرگ کا نام مکرم و فرم شناسی حسن سی پر صاحب (SINASI HASAN SIBER) ہے آپ قبرصی ترکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔وہ یا ناہ میں قبرص کے شہر ماغوسہ ( FAMA YUST A) میں پیدا ہوئے۔آپ نے پرائمری تعلیم ماغوسہ میں حاصل کی۔اس کے بعد آپ تعلیم کی عرض سے استنبول چلے گئے اور قابا طائش KABAT E S) سیکنڈری سکول سے انٹر میڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔یونیورسٹی کی تعلیم آپ الفضل یکم دسمبر ۶ ماه (ترجمہ) بے حال مبلغ مہمبرگ (رتین اور پولیش اقوام میں تبلیغ کے انچا رج )