تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 229 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 229

۲۲۹ حیدر آبادی بھی نہایت ہی ابتدائی مخلص احمدیوں میں سے تھے جن کی تربیت سے حیدرآباد اور تیما پور میں جماعتیں قائم ہوئیں۔سیٹھ عبد الرحمن صاحب کے ایک دوست سیٹھ لال جی دال جی تھے وہ باقاعدہ احمدی تو نہیں ہوئے تھے لیکن سلسلہ کی بہت مدد کرتے رہتے تھے۔اسی طرح سیٹھ عبد الرحمن صاحب اللہ رکھا کے بعض رشتہ دار مینگلور میں احمدیت کی تبلیغ کرتے تھے۔جس کی وجہ ان علاقوں میں کچھ جماعت پھیلی۔پس جنوبی ہندا احمدیت میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔اور میں امید کرتا ہوں کہ اب جبکہ موجودہ تغیرات میں شمالی ہند میں جماعت کے دور ہو گئی ہے جنوبی ہندا اپنے کھوئے ہوئے نظام کو پھر حاصل کرلے گا۔اور پھر آسمانی فوج میں اس کے رہنے والے جوق در جوق شامل ہوں گے اور لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں اسلام کا جھنڈا اونچا رکھنے کے لیے آگے آئیں گے اور نہ صرف جنوبی ہند میں اسلام کی جڑیں مضبوط کریں گے بلکہ شمالی ہند کا کھویا ہوا وقار بھی واپس لائیں گے۔اور قادیان کی مضبوطی کی فکر سے ہم کو آزاد کر دیں گے۔کیونکہ اس وقت ہمارے اور قادیان کے در میان سیاست کا ایک بڑا دریا حائل ہے اور ہم آزادی سے قادیان کی مدد نہیں کر سکتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ وہ دن لائے جس کا کھلا کھلا وعدہ اس کی وحی میں موجود ہے۔لیکن جب تک وہ دن نہ آئے خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ جنوبی ہند کو اسلام کا جھنڈا اونچا رکھنے کا فخر عطا کرے۔کے ہیں تاریخ اپنے آپ کو دُہراتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیب مبعوث ہوئے اس وقت بھی رہی ہوا تھا۔آپ مکہ میں پیدا ہوئے لیکن پھر آپ کو شمالی کی طرف ہجرت کر کے جانا پڑا۔اس کے بعد آپ کے آخری زمانہ میں خدا تعالیٰ نے جنوب میں یمین کے ملک کو اسلام قبول کرنے کی توفیق دی۔اور جب آپ کی وفات کے بعد ارتداد کا سلسلہ شروع ہوا تو گوئین میں بھی کچھ گڑ بڑ ہوئی مگر جنوبی عرب کے مسلمانوں نے جلد ہی اسلامی جھنڈے کے گرد گھیرا ڈال دیا۔اور سارا عرب پھر خلافت اولیٰ کے خدام میں شامل ہو گیا اور اسلام کے لیے قربانیاں کرنے لگ گیا۔انڈونیشیا جانے والے لوگ جانتے ہیں کہ انڈونیشیا میں زیادہ تر اسلام حضرموت کے لوگوں کے ذریعہ پھیلا ہے جو کہ جنوبی عرب کے لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں وہاں پائے جاتے ہیں اور اسلام کی طرف لوگوں کو مائل کر رہے ہیں۔ہمارے پاس جو لوگ