تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 228 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 228

اور خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت ان کے شامل حال رہی تو برا یہ آتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ وہ دن آجائے گیا کہ دنیا میں ایک ہی خدا ہو گا اور ایک ہیں رسول محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کی رسالت نہیں ہوگی۔اور خدائے واحد کے سوا کسی کو خدا کے نام سے یا دنہیں کیا جائے گا۔اور غیر مذا ہب والے بالکل ادنی قوموں کی سی حیثیت اختیار کر لیں گے یہ جنوبی ہند کے خوش نصیب خطہ میں حضرت سیٹھ سید نا حضرت مصلح موعود کا پیغام جنوبی | عبدالر حمن صاحب مدراسی جیسے مخلص اور ایثار ہند کے احمدیوں کے نام پیشہ بزرگ پیدا ہوئے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کر کے اخلاص ، قربانی اور اشاعت حق میں ایسا تے قابل رشک نمونہ دکھایا کہ اس کی تعریف حضرت امام الزمان نے نہایت محبت بھرے الفاظ میں فرمائی۔سید نا حضرت مصلح موعود نے اس سال جنوبی ہند کے احمدیوں کو اپنی اس امتیازی خصوصیت سے باخبر رکھنے اور اپنی قدیم روایات کو ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے ایک خصوصی پیغام دیا جو مدراس کے اختبار در آزاد نوجوان ملک لانہ نمبر یں اشاعت پذیر ہوا۔اس پیغام کا مکمل متن درج ذیل کیا جاتا ہے برادران ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته ہمارے عزیہ دوست محمد کریم اللہ نوجوان نے خواہش کی ہے کہ نوجوانہ کے جنوبی ہند نمبر کے لیے میں کوئی پیغام لکھ کر سمجھو اؤں ان کی اس خواہش کے احترام میں یہ چند سطور لکھ کر بھجواتا ہوں۔احباب کو یہ بات معلوم ہو گی کہ جماعت احمدیہ کی جب بنیا د رکھی گئی تو پہلے اس کا شانداز جواب جنوبی ہند سے ہی ملا تھا۔مدر اس کے سیٹھ عبد الرحمن صاحب اللہ رکھا ان ابتدائی مخلصین میں سے تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر بڑی سر گرمی سے احمد بیت اور اسلام کی خدمت میں لگ گئے۔اسی طرح مولوی محمد سعید صاحب سه روزنامه الفضل ربوه ۲۴ اکتوبر ۱۹۵۶ء صفحه ۵٫۴ سے مجموعہ اشتہارات حضرت مسیح موعود " جلد سوم صفحه ۱۵۸