تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 230
۲۳۰ انڈونیشیا سے مسلم کے لیے آتے ہیں ان میں بھی حضر موت عرب شامل ہیں۔برما میں احمدیت کی تعلیم پھیلانے والے بھی جنوبی ہند کے لوگ ہیں۔پس جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہمانہ میں ہوا تھا۔اسی طرح اب بھی ہو رہا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ اس وقت عرب کا ملک تھا اب ہندوستان ہے اس وقت اسلام سمٹ کر جنوبی عرب میں آگیا تھا۔اب اسلام اور احمدیت سمٹ کر جنوبی ہند میں آگئے ہیں۔پرانے زمانہ میں تو بے لوگوں نے مشرقی افریقہ میں اسلام پھیلا دیا تھا اب امید ہے کہ جنوبی ہند کے لوگ برما ملایا اور انڈنیشیا میں اور اگر چاہے تو جنوبی افریقہ میں احمدیت کو مضبوط کریں گے کیونکہ جنوبی افریقہ میں اس وقت زیادہ آبادی ملائی لوگوں کی ہے جس کی جڑ جنوبی ہند سے گئی ہے۔پس اگر جنوبی ہند کے احمدی اپنی ذمہ داری کو مجھیں تو انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ نہ مانے کی تاریخ میں ان کے لیے بڑ کی جگہ محفوظ رکھی گئی ہے۔وہ نہ صرف اپنے لئے اور اپنے خاندان کے لئے بلکہ اپنے ملک۔کے لیے بھی عزتوں کا بے انتہا ذخیرہ جمع کریں گے اور تاریخ میں ان کا نام ایسی گہری سیاسی سے لکھا جائے گا جس کو کوئی مٹا نہ سکے گا۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔اور میری یہ نیک فنی جو جنوبی ہند کے لوگوں پر مجھے ہے۔اور جسے میں الہی تدبیر کا ایک حصہ سمجھتا ہوں پوری ہو جائے اور میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں کہ اسلام کے جھنڈے کو سنوبی ہند کے مسلمانوں نے اسی طرح کھڑا کر دیا ہے بس طرح اسلام کے جھنڈے کو پرانے زمانہ میں جنوبی عرب کے لوگوں نے کھڑا کیا تھا۔اور جس طرح عرب حملہ آور دن کے زمانہ میں شمالی میں ہندو مذہب کے جھنڈے کے سرنگوں ہونے کے بعد جنوبی ہند کے لوگوں نے کھڑا رکھا تھا۔پس اے دوستو ! اٹھو اخلاص ، ایمان ، عمل اور علم میں نرتی کرو۔اپنا حصہ جو خدا کی طرف سے آپ کے لیے مقدر ہے حاصل کرنے کوشش کرو کام بہت ہے اور ثواب بھی بہت ہے لیکن کام کرنے والے تھوڑے ہیں۔مگر دل کو اس بات سے مسلی ہوتی ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔كمْ مِن فِئَةٍ قليلةٍ غُلبَتْ فِعَةً كَثِيرَام بِإِذْنِ اللهِ له له البقره : آیت نمبر ۲۵۰