تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 216 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 216

۲۱۶ سچائی کو ظاہر کر دے گا یہ طریق ایسا ہے کہ اس سے امریکہ اور مہندوؤں دونوں پر اسلام کا رعب قائم ہو جائے گا مہندوؤں کو اس الزامی جواب دینے کے لیے میں نے اس لیے کہا ہے کہ انہوں نے اس امریکین کی کتاب کو شائع کیا ہے اور رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو تیر مارے اور وہ تیرا سے زخمی نہ کرے لیکن ایک دوسرا آدمی جو تیرا اٹھا لائے اور اسے دوسرے کے سینہ میں پیوست کر دے تو زیادہ ظالم وہ ہے میں نے گرا ہوا تیر اٹھایا اور دوسرے کے سینہ میں چھو دیا۔یہ کتاب بھی امریکہ کے کسی عیسائی نے شائع کی تھی مگر امریکہ کی کتاب تو امریکہ میں رہ گئی ہندوؤں نے اس کا ترجمہ کر کے مسلمانوں تک پہنچایا اور اس طرح اُن کی تکلیف کا موجب ہوئے پس یہ گالیاں ہندوؤں نے مسلمانوں تک پہنچا کہ اپنے ذمہ لے لی ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ اس کتاب کے ایک ایڈیشن میں جو ہندوستان میں شائع ہو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع کے ساتھ ساتھ ہندو مذہب کے پول بھی کھولے جائیں اور دوسرے ایڈیشن میں دفاع کے ساتھ ساتھ عیسائیت کے پول کھولے جائیں کیونکہ اس کتاب کا اصل مصنف عیسائی ہے۔اس کے بعد اس کتاب کے لکھنے والوں اور شائع کرنے والوں کو چیلنج کیا جائے کہ وہ ہمارے ساتھ بحث کر لیں اور اس کے بعد اگر ان میں طاقت ہو تو ہم سے مباہلہ کر لیں تاکہ خدا تعالٰی کی طاقت انہیں نظر آجائے اگر یہ طریق اختیار کیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ یوروپ ، امریکہ اور مہند دستان نینوں کے لیے یہ طریق ہدایت کا موجب ہو گا۔مہند دوستان بے شک آزاد ہو گیا ہے مگر اب بھی وہ یورپ کی طرف میلان رکھتا ہے اگر یورپ اور امریکہ میں شور مچ گیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے والوں کو احمدیوں نے خوب لتاڑا ہے اور انہیں مباحثہ اور مباہلہ کا چیلنج دیا ہے تو سہندوستان کے اخبارات بھی شور مچانے لگ جائیں گے اور وہ بھی وہی باتیں شائع کرنے لگ جائیں گے جو یوروپ اور امریکہ کے اخبارات میں شائع ہو رہی ہوں گی۔اور اس سے ہندوؤں کے کان کھڑے ہو جائیں گے اور وہ سمجھ لیں گے کہ احمد می پیچھا نہیں چھوڑا کرتے اگر ان کے رسول پر حملہ کیا گیا تو اس وقت تک حملہ کرنے والوں کو نہیں چھوڑتے جب تک انہیں گھر پہنچا ہیں۔اس طرح آئندہ کے لیے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹنگ کرنے اور مسلمانوں پر حملہ کرنے میں احتیاط سے کام نہیں کے لیے لے روز نامہ الفضل ربوه ۲۲ نومبر ۱۹۵۶ ص ۶/۵