تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 217 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 217

Pi اس خطبہ جمعہ کے بعد حضور کی ہدایت کیمطابق امریکی فرم کی طرف سے معذرت نامہ ایک تو آنحضرت ملالہ علیہ وسلم کی ذات مقدس ر مغرب کے اس نئے جملے کا علمی جواب لکھا گیا۔دوسرے امریکی فرم کو بھی اس کی اطلاع دی گئی۔اس پر وقت اور دانش مندانہ اقدام کا نور می ر د حل یہ ہوا کہ امریکی فرم نے اپنی غلطی پر سخریہ کی معانی انگ لی سلسلہ احمدیہ کی تاریخ کے اس اہم واقعہ کی تفصیل حضرت مصلح موعود کے الفاظ میں درج کی جاتی ہے۔حضور نے اس کتاب کے بارے میں اپنے خطبہ جمعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ میر نے اس خطبہ کے بعد سند دوستان سے خصوصاً بمبئی سے رپورٹ آئی کہ ترجمہ کرانے کی ضرورت نہیں یہاں زیادہ تر انگریزی پڑھے ہوئے لوگوں میں اس کا چہر چاہے اس لیے جو انگریزی کتاب امریکہ کے لیے چھپے رہی ہندوستان میں بھیج دی جائے۔اور وہ انگریزی داں طبقہ میں تقسیم کی جائے۔اگر ضرورت سمجھی جائے تو بعد میں اس کا اردو ترجمہ بھی ہو جائے۔چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب اب امریکہ سے آئے ہیں وہ کہتے ہیں میں نے کتاب پڑھی ہے اس کے متعلق کئی غلط فہمیاں ہیں وہ کتاب در حقیقت ایک تحقیقی رنگ میں لکھی ہوئی کتاب ہے وہ شخص اسلام کا دشمن نہیں ہے اس لیے جو میری تجویز تھی کہ اسکا تحقیقی جواب بھی دیا جائے۔اور پھر الزامی جواب بھی دیا جائے۔عیسائیوں کو بھی اور مندروں کو بھی۔ان کی رائے یہ ہے کہ نرمی کے ساتھ تحقیقی جواب دیا جائے لیکن الزامی جواب نہ دیا جائے۔کیونکہ لکھنے والے کے دل میں بدنیتی کوئی نہ تھی اور چونکہ مہندوستان میں بھی دوستوں نے کہا ہے کہ اردو کی ضرورت نہیں انگریزی کی ہے اس لیے ایک ہی کتاب کافی ہو جائے گی۔جس میں تحقیقی جواب ہوں گے تحقیقی جو آجیسے عیسائیوں کے لیے کافی ہوتے ہیں۔اسی طرح ہندوؤں کے لئے۔اسی طرح زرتشتیوں کے لئے اور اسی طرح یہودیوں کے لئے بھی کافی ہوتے ہیں۔پس تحقیقی جواب کے ساتھ وہ کتاب شائع ہو گی اور مجھے اطلاع آچکی ہے کہ وہ لکھی جاچکی ہے گھر خدا تعالیٰ کا ہمارے ساتھ وہی معاملہ ہے جو ایک بڑے الہانی کا ہوا تھا۔ایک بڑھا ایرانی ایک دفعہ ایک درخت لگا رہا تھا۔ساٹھ سال میں کہیں وہ پھل دیتا تھا۔بادشاہ وہاں سے گزرا۔بادشاہ نے اس درخت کو لگاتے جو دیکھا تو کہا اس