تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 5
یعقوب علی صاحب عرفانی ردی الحکم اور مولوی عبدالرحیم صاحب درد کو مزید تحقیق کے لیے مقرر فرمایا دیا۔جنہوں نے مخبر کے ساتھ مل کر خفیہ طور پر اُن کی سکیم کی تفصیلات تک کا پتہ چلا لیا۔اور اس طرح یہ سازش بھی پیوند خاک ہو گئی یہ کوئی اور ہوتا تو اس ناپاک اور ظالمانہ کارہ والی کی تشہیر کر کے ان کی رسوائی الہ ابر ٹی کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرتا لیکن سید نا حضرت مصلح موعود کو خدائے ذو العرش نے یوسف اور سول کا حلیم " قرار دیا تھا۔اس لیے آپ نے لا تُشْرِيْبَ عَلَيْكُمْ انیومد کا شاندار نمونہ دکھاتے ہوئے ان لوگوں کو صمیم قلب سے معاف فرما دیا اور اپنے لوح قلب سے اُن کے اس رویہ کے نقوش و اثرات تک محور کمر دیئے۔لیکن خدا کے محبوب و موعود خلیفہ کی اس شان یوسفی اور دل کی حلیمی کے اس عظیم جلوہ کا ان ظالموں پر الٹا اثر ہوا۔وہ غیر مبالغین کے آلہ کار تو تھے ہی، اب انہوں نے احمدیت کو مٹانے کے لیے احرار جیسے دشمنوں سے بھی سانہ بانہ کرلی۔جس کا ایک واضح دستاویزی ثبوت شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور کا مندرجہ ذیل مکتوب ہے۔جو انہوں نے سات اپریل ۱۹۳۶ء کو لاہور سے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں بھیجوایا۔بسم الله الله حمن الرحیم SH۔BASHIR AHMAD ADVOCATE 12 TEMPLE ROAD LAHORE DATED 7 TH apoll 1936 اسیدی و آقائی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کانه حضور کا مکرمت نامہ ملا۔اس سے پہلے مجھے تبھی ایک اطلاع موصول ہوئی مفتی لیکن مجھے۔" یہ معلوم نہ ہوسکا کہ وہ کون سالہ کا ہے۔اطلاع یہ تھی کہ مولوی عبدالوہاب صاحب عمر بقیه باشید ، العض براکت به ۱۹۵۶ دست بر همه مولوی عبدالواحد صاحب غزنوی کے بیٹے جو سیتی است خلیفہ اول کی پہلی صاجزادی امامہ کے سین تھے : سال نظام آسمانی کی مخالفت اور اس کا پس منظر من