تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 4
بھی ناکام کوشش کی لیہ اسی دور کا واقعہ ہے کہ جناب میاں عبد السلام صاحب بے عمر شملہ میں مولوی محمد علی صاحب امیر غیر مبائعین سے ملے۔ان کی گھر نہ میں بیٹھے اور اُن سے نذرانہ دول کیا۔جماعت احمدیہ شملہ کے سیکرٹری حضرت خان برکت علی خان صاحب کو علم ہوا تو آپ نے اُن کو تنبیہ کی جس پر وہ غضبناک ہو گئے۔اور کہا کہ آپ کو ہمارے کسی قسم کے ذاتی تعلقات پر گرفت کرنے کا حق نہیں۔نیز مولوی مولوی عمر دین صاحب شلوی کے سامنے تسلیم کیا کہ میں نے خلیفہ المسیح الثانی کے بعض دستی خطوط اُڈالئے ہیں تو اسی نوعیت کی افسوسناک حرکت جناب میاں عبدالوہاب صاحب نے احمدیہ ہوسٹل لاہور کے زمانہ قیام میں کی۔اس زمانے میں ہوسٹل نواب صاحب بہاولپور کی کو بھی میں متضا۔اور میاں فضل کریم صاحب پراچہ بی۔اے۔ایل۔ایل۔بی سپر نٹنڈنٹ ہوسٹل تھے۔حضور لاہور تشریف لے گئے تو اسی ہوسٹل میں قیام فرمایا۔اسی اثناء میں ایک دن حضور با سہر تشریف لے گئے۔جناب مولوی عبد الوہاب صاحب کمرے کو خالی پا کہ اندر گئے۔اور حضور کے ذاتی کاغذات دیکھنے لگ گئے۔میاں فضل کریم صاحب کے بھائی شیخ عبدالرحیم پراچہ بھی اس وقت ہوسٹل میں تھے میاں فضل کریم صاحب کو پتہ چلا تو انہوں نے عبدالوہاب صاحب کی سخنت بے عزتی کی۔اور بتایا کہ ان کا پیغامیوں سے تعلق ہے۔اور وہ اسی ضمن میں تلاشی لے رہے تھے لیکہ دسمبر : ۱۹ء میں حضرت خلیفہ اول کے بیٹوں نے اپنے بھانجے مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی امرتسری کے ساتھ مل کر یہ غزل خلافت کا ایک شرمناک خفیہ منصوبہ باندھا - مگر خلیفہ صلاح الدین صاحب رابن مکرم کی اکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب) کے ذریعہ حضرت مصلح موعود کو اس کی بر وقت رپورٹ پہنچ گئی۔حضور نے فوری طور پر حضرت شیخ را شہادت مولای برکت علی صاحب لائق له معیبانوی منقولہ " نظام آسمانی کی مخالفت اور اس کا پس منظر صفحه ۲۲ ۴۲۳۰ تقریر سید نا حضرت مصلح موعود ۲۷ دسمبر ۱۹۵۶ء الناشر الشركة الاسلامیہ ربوده است محتر خلیفہ ربیع الاول کے صاحبزادہ : سے گواہی فضل حمد خانصاحب مشموی رانظام آسانی کی مخالف اور اسکا پیش نظر مرا (باقی صرت پر حاشیہ)