تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 6
دفتر اقرار میں تشریف لے گئے۔خان کا بلی سے باتیں ہوتی رہیں۔چوہدری افضل حق بھی وہیں موجود تھے اور خان کا بلی سے کافی عرصہ اُن کی ملاقات رہی۔دوسری بات جو مجھے معلوم ہوئی یہ بھی کہ خان کا ہی کوئی مسودہ لے کر گیا اور چو ہدری افضل حق کو کہا کہ وہ لڑکا تو یہ کہتا ہے، یا یہ کہ اس کا بیان تو یہ ہے لیکن سننے والے نے دلچسپی نہ نہ لی اور تفاصیل کا اُسے علم نہ ہو سکا۔میں آج ہی شفیع کو بلوانے کی کوشش کروں گا۔اور تادیب بھی کردوں گا لیکن کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ سب دوست میں اسے نوکر رکھ لوں، اور پھر یہ معلوم ہو سکے گا کہ دشمن نے کیا کچھ سکھایا ہے اور کس طرح اسے استعمال کرنا چاہتا ہے۔بہر کیف حضور کے حکم کے مطابق عمل درآمد کروں گا۔انشاء اللہ حضور کی دعاؤں کا اشد محتاج ہوں۔اپنی دعاؤں سے میری مدد فرمائیں۔والسلام خاکسار - حضور کا غلام شیخ بشیر احمد نے حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا بیان ہے کہ :۔" میں نے ایک بار بہت سی باتیں سن کر مجبور ہو کر لکھا کہ اب تو یہ (ایک روصاحبزادگان حضرت خلیفة المسیح اول) بہت حد سے بڑھ چلے۔باتیں سن سن کر کان پک گئے ، دل جل اٹھا ، اب تو کچھ کرنا چاہیئے آپ کو ، اس کا جواب مجھے دیا کہ اکبر نے اپنے کو تھا کی شکایت سن کر کہا تھا کہ اس کے اور میرے درمیان دودھ کا دریا بہتا ہے تو ان کے اور میرے درمیان سات دودھ کے دریا بہتے ہیں۔جب تک مجھ میں طاقت ہے صبر ہی کرتا جاؤں گا۔یہانتک کہ حالات مجھے مجبور نہ کر دیں کوئی قدم اُن کے خلاف نہ اٹھاؤں گا یا سے * ه (غیر مطبوعه) ریکاره 3 شعبه تاریخ احمدیت کے دودھ پلانے والی عورت کا لڑکا (ہندی) له رساله خالد دیسمبر ۱۹۶۴ء ص ۱۲ به