تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 178 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 178

ہونا پڑے۔ہم ان ممالک کے دشمن نہیں۔ہماری دعاہے کہ یہ ملک ترقی کریں اسلام اور مسلمانوں کی مدد سے۔آج تو دمشق اور مصر کہ میں کے ہاتھوں کے طرف دیکھ رہا ہے کہ کسی طرح اس سے کچھ مدد مل جائے۔لیکن ہم چاہتے ہیں کہ اللّہ تعالیٰ دمشق اور مصر کے مسلمانوں کو کیا مسلمان بھی بنائے اور پھر دنیوی طاقت بھی اتنی دے کہ دمشق اور مصر کہ دس سے مدونہ مانگے بلکہ روس دمشق اور مصر کو تاریں دے کہ ہمیں سامان جنگ بھیجو۔اسی طرح امریکہ ان سے یہ نہ کہے کہ ہم تمہیں مدد دیں گے۔بلکہ امریکہ شام مصر عراق ایران پاکستان اور دوسری اسلامی سلطنتوں سے کہے کہ ہمیں اتنے ڈالر بھیجو ہمیں ضرورت ہے ورنہ ہم تو خالص دین کے بندے ہیں اور دُنیا سے ہیں کوئی غرض نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی جو چیز ہے وہی ہمیں پیاری ہے۔پس اللہ تعالی اسلام کے غلبہ کی کوئی صورت پید اکر ہے۔اور خلافت کی اصل عرض بھی یہی ہے کہ مسلمان نیک رہیں۔اور اسلام کی اشاعت میں لگے رہیں یہاں تک کہ اسلام کی اشاعت دنیا کے چپہ چپہ پہ ہو جائے۔اور کوئی غیر لم باقی نہ رہے۔اگر یہ ہو جائے تو ہماری غرض پوری ہوگئی۔اور اگر یہ نہ ہو تو محض نام کی خلافت نہ ہمارے کسی کام کی ہے اور نہ اس خلافت کے ماننے والے ہمارے کسی کام کے ہیں۔ہمارا دوست وہی ہے جو اللہ کے نام کو دنیا کے کناروں تک پھیلائے۔وہ خلیفہ ہمارے سر آنکھوں پر جو خدا تعالیٰ کے نام کو دنیا کے کناروں تک پھیلاتا ہے وہ مبالغ ہمارے سر آنکھوں پر جو خدائے واحد کے نام کو دنیا میں پھیلاتے ہیں۔جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی صداقت کو دنیا پر ظاہر کرتے ہیں۔ہمارے دل اُن کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔چاہے وہ ہزار سال بعد آئیں۔اور ہمارے دماغ بھی اُن کے لیے دُعا کرتے ہیں چاہیے وہ سینکڑوں نہیں ہزاروں سال ہم سے بعد آئیں۔اللہ تعالیٰ ان کا حافظ و ناصر ہو۔اور ان کی مدد کرے اور ہمیشہ ان کو راہ راست پر قائم رکھے۔اور اسلام کی ترقی کے سامان پیدا کرتا ر ہے کالے نے سپورٹ مجلس مشاورت " ۱۹۵۷ ص ۳ - ۱۸