تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 177
166 کی تائید میں ہے۔اس طرح دوستوں نے واضح کر دیا ہے کہ انہوں نے اس وقت اپنی مرضی سے یہ نہ دریویشن کے حق میں رائے دی ہے۔جماعتوں کے دباؤ کی وجہ سے انہوں نے ایسا نہیں کیا۔سوئیں اس ریزولیوشن کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں۔اور اسے منظور کرتا ہوں۔خدا تعالیٰ اس کو مبارک کرے۔میں جانتا ہوں کہ اس ریزہ دلیوشن کے بعض معنے ایسے ہیں جن پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہو گی جیسا کہ مولوی ابوالعطاء صاحب نے کہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام نے اس بات کو رسالہ الوصیة میں اٹھایا ہے کہ جو بھی اس دنیا میں پیدا ہوا ہے اس نے ضرور مرنا ہے چاہے وہ آج مریں یا کل مریں اس لیے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ کوئی خلیفہ قیامت تک زندہ رہے یا اس کا کوئی ماننے والا قیامت تک زندگی پائے۔پس ہم نے جو کچھ کہنا ہے اس دنیا کی زندگی کے متعلق کرتا ہے۔اگلی دنیا کا خدا خود ذمہ دار ہے۔اس جہان میں خدا تعالیٰ نے انسان کو نیکی اور بدی کا اختیار دیا ہے۔اگلے جہان کا کام وہ خود کرے گا۔پس چونکہ صرف اس دنیا کا کام چلانا انسان کے اختیار میں ہے اس لیے ہماری کوشش اس حد تک ہونی چاہیئے کہ ہم اس دنیا کے نظام کو اچھا کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔اگلے جہان کا نظام خدا تعالیٰ نے خود اپنے اختیار میں رکھا ہے۔اور وہ اسے آپ ہی ٹھیک کر دے گا۔ہماری اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ وہ نظام خلافت حقہ کو احمدیت میں ہمیشہ کے لیے قائم رکھے اور اس نظام کے ذریعہ سے جماعت ہمیشہ ہمیش منتظم صورت میں اپنے مال و جان کی قربانی اسلام اور احمدیت کے لیے کرتی رہے۔اور اس طرح خدا تعالیٰ ان کی مدد اور نصرت کرتا رہے کہ آہستہ آہستہ دنیا کے چپہ چپہ پر سجدیں بن جائیں اور دنیا کے چپہ چہیتہ پر مبلغ ہو جائیں اور وہ دن آجائے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے کہ دنیا کے دیگر مذاہب اسلام اور احمدیت کے مقابلہ میں ایسے رہ جائیں جیسے اوٹی اقوام کے لوگ ہیں۔دنیا میں ہر کہیں لا الہ الا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہ کے پڑھنے والے نظر آئیں اور روس امریکہ بر طانیہ اور فرانس کے لوگ جو آج اسلام پر سہنسی اڑا ر ہے ہیں وہ سب کے سب احمدی ہو جائیں۔وہ اسلام کو قبول کرلیں اور انہیں اپنی ترقی کے لیے اسلام اور مسلمانوں کا دست نگر وا