تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 175
ILD شرارت کا دروازہ کھلتا ہے تو وہ ووٹ نہ دے۔آگے اس کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے خدا تعالیٰ جس طرح چاہے گا اُس کے ساتھ برتاؤ کرے گا۔وہ اپنی جماعت سے نہ ڈرے کراچی کا نمائندہ کراچی کی جماعت سے نہ ڈرے۔لاہور کا نمائندہ لاہور کی جماعت سے نہ ڈرے۔سرگودہا کا نمائندہ سرگودہا کی جماعت سے نہ ڈرے۔وہ ووٹ دے تو خدا تعالیٰ سے ڈر کر دے اور پھر اس کے بعد ہمارا اور اس کا جو معاملہ ہے وہ خدا تعالیٰ خود طے کرے گا۔ہمیں اس کے دوٹ کی ضرورت نہیں۔ہمیں صرف اس شخص کے ووٹ کی ضرورت ہے جو خدا تعالیٰ سے محبت رکھنے والا ہے۔اسلام سے محبت رکھنے والا ہے اور خلافت سے محبت رکھنے والا ہے۔پس اگر وہ خدا تعالی اسلام اور خلافت کی خاطر ووٹ دیتا ہے تو دے اور اگر وہ اپنی جماعت کی خاطر ووٹ دیتا ہے تو ہمیں اس کے ووٹ کی ضرورت نہیں۔یہ تحریک کرنے کے بعد میں جماعت کے دوستوں کی رائے اس بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں۔مگر میں یہ کہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس ریزولیوشن کے بعض حصے ایسے ہیں جن پر آئندہ زمانوں میں دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہوگی۔لیکن بہر حال جب تک کوئی دوسرا ریز ولیوشن پاس نہ ہو گا اس وقت تک یہ ریزولیوشن قائم رہے گا جیسا کہ خود اس ریزولیوشن میں بھی یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ آئندہ خلافت کے انتخاب کیلئے ہی قانون جاری ہیگا سوائے اس کے کہ خلیفہ وقت کی منظوری سے شوری میں یہ مسئلہ پیش کیا جائے۔اور شوری کے مشورہ کے بعد خلیفہ وقت کوئی اور تجویز منظور کرے۔پس یہ ریزولیوشن دوبارہ بھی مزید غور کے لیے پیش ہو سکتا ہے اور آئندہ پیدا ہونے والی مشکلات کو دور کیا جا اور " سکتا ہے۔مجھے خود اس میں بعض ایسی باتیں نظر آتی ہیں جن میں بعد میں تبدیل کی ضرورت محسوس ہوگی مثال کچھ عرصہ کے بعد رفقاء نہیں رہیں گے۔پھر میں یہ کرنا پڑے گا کہ انتخاب کی مجلس میں تابعی لیسے جائیں یا وہ لوگ لیے جائیں جنہوں نے ۱۹۱۴ء سے پہلے بیعت کی ہے۔پھر کچھ عرصہ کے بعد یہ قانون بنانا پڑے گا کہ وہ لوگ لیے جائیں جنہوں نے ا سے پہلے بیعت کی ہے پھر کچھ عرصہ کے بعد یہ قانون بنا نا پڑے گا کہ وہ لوگ لیے جائیں جنہوں نے 1997 سے پہلے