تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 174
۱۷۴ خلافت کے ساتھ وابستگی ہے اور ہم خلافت احمدیہ کو کسی صورت میں بھی تباہ نہیں ہونے دیں گے کہ ہم ضرور اس پریز دلیوشن کی تائید کرنی تھی۔لیکن ہوا یہ کہ جماعتوں نے ہم سے اس بات کے متعلق حلف لی ہے کہ ہم ضرور اس ریزولیوشن کی تائید کریں۔اس طرح جو بات ہم نے اپنے ایمان کے ثابت کرنے ے لیے کرنی تھی وہ حلف کے ذریعہ سے کر دائی جائے گی۔اور یہ سمجھا جائے گا کہ اس شخص میں ایمان تو کوئی نہیں صرف جماعت سے وعدہ کی بناء پر یہ ایسا کہ رہا ہے۔اس طرح گویا ہمارے ثواب کا راستہ بند ہوتا ہے اور ہم اپنے اخلاص کا اظہار نہیں کہ سکتے۔ان کی یہ بات چونکہ معقول ہے اس لیے جو دوست باہر سے جماعت کے نمائندہ بن کے آئے ہیں اور ان سے جماعتوں نے اس بات کے لیے حلت لیا ہے کہ وہ ضرور اس ریزولیوشن کی تائید کریں۔میں انہیں اس ملعت سے آزاد کرتا ہوں۔خلافت احمدیہ کو خدا تعالیٰ نے قائم کرنا ہے۔اگر کوئی شخص اپنے ایمان میں کمزور ہے اور وہ کوئی ایسا راستہ کھولتا ہے جس کی وجہ سے خلافت احمد یہ خطرہ میں پڑ جاتی ہے یا دشمنوں کے ہاتھ میں ملی جاتی ہے تو اس کے ووٹ کی نہ خلافت احمدیہ کو ضرورت ہے اور نہ خدا کو ضرورت ہے۔یہاں جماعتیں کچھ نہیں کر سکتیں۔اگلے جہان میں خدا تعالی خود اس کو سیدھا کر سکتا ہے۔اس لیے مجھے اس بات کی کوئی ضرورت نہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ایسے نمائندگان کو تائید کا پابندکرنے کی مجھے ضرورت نہیں۔وہ ووٹ دیں تو اپنے ایمان کی بناء پر دیں۔یہ سمجھ کر نہ دیں کہ وہ کسی جماعت کے حلف کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں بلکہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ریزولیوشن جماعت احمدیہ کی خلافت کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے ذریعہ سے آئندہ فتنوں کا سد باب ہوتا ہے تو وہ اپنی عاقبت سنوارنے کے لیے ووٹ دیں نہ کہ اپنی جماعت کو خوش کرنے کے لیے۔اور اگر کوئی شخص سمجھتا ہے کہ اس ریزولیوشن سے شرارت بڑھتی ہے اور فتنہ کا دروازہ کھلتا ہے تو وہ دوٹ نہ دے۔ہمیں اس کے ووٹ کی ضرورت نہیں۔اور نہ خدا تعالیٰ کو اس کے ووٹ کی ضرورت سے۔خدا تعالیٰ نے جب مجھے خلیفہ بنایا تھا اس وقت اس قسم کا کوئی قانون نہیں تھا۔مگر اللہ تعالیٰ نے فتنہ پر دانوں کی کوششوں کو نا کام کر دیا۔پس ہم خدا تعالے پر تو قتل کرتے ہیں۔جو شخص روٹ دے وہ اس بات کو سمجھ کر دے کہ اس ریز دلیوشن کی وجہ سے جماعت میں شرارت کا سدباب ہوتا ہے۔لیکن اگر وہ سمجھتا ہے کہ اس ریز ولیوشن سے شرارت کا سدباب نہیں ہوتا بلکہ اس سے