تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 90
پھاڑ دیئے جائیں۔اور ان منافقوں کو ننگا کر دیا جائے۔تو وہی لوگ جو ایک ایک سال تک بزدلی دکھاتے رہے تھے دلیر ہو گئے اور جو چھ ماہ تک ان باتوں کو چھپاتے رہے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں کہا اب بزدلی دور کر دو اور مجید ظاہر کر دو۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے گزشتہ جلسہ کے موقعہ پر یہ بات سنی تھی۔بعض نے کہا ہے کہ شوری کے دنوں میں یہ بات ہوئی تھی اور ایک شخص نے تو یہاں تک کہا ہے کہ ۵۳ راہیں یہ بات ہوئی۔اب دیکھ لو 19ء والے نے دو سال یا اس سے زائد عرصہ تک ایک بات کو چھپائے رکھا شہر والے نے ایک سال تک بات کو مخفی رکھا جلسہ سالانہ والے نے سات ماہ تک بزدلی دکھائی شوری والا پانچ ماہ تک چپ رہا اب اگر یہ سب لوگ بہاور بن گئے اور انہوں نے سمجھا کہ حقیقت ظاہر کر دینی چاہیے به چیز بتاتی ہے کہ اس کے پیچھے خدا تعالی کا ہا تھ ہے جب اس نے کہا منہ بند رکھو تو منہ رہے اور جب اس نے منہ کھولنے کے لئے کہا تو وہ کھل گئے اسلیے تم اس خفتہ کو دور کرنے کے لیے خدا تعالیٰ سے ہی کہو۔پھر دیکھو گے کہ منافقت کی یہ سب باتیں یا سنی ہو جائیں گی اور اللہ تعالے اپنی رحمت تم پر نازل کر دے گا بشرطیکہ تم اپنے دلوں میں نیکی قائم کرو۔میں تمہیں ایک چھوٹی سی بات کہتا ہوں کہ تم ایک ایک دو دو کر کے غور کرو اور سوچو کہ اگر خلافت مٹ جائے تو کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا کوئی بھی امکان ہوسکتا ہے کہ تین سو سال میںے احمدیت ساری دنیا میں غالب آجائے گی۔چاہے کوئی شخص کتنا ہی بے وقوف ہو۔اگر وہ پندرہ منٹ کے لئے بھی اس بات پر غور کہ سے تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ اگر تین سو سال میں احمدیت ساری دنیا پہ غالب نہ آئی تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکومت دنیا میں ہرگزنہ قائم نہیں ہوسکتی۔سیدھی بات ہے کہ لمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تو دیس نکالا ابھی سے مل جائے گا۔کیونکہ یہ خدا لقائے کا آخری حد یہ تھا کہ اس نے موجودہ زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ذریعہ ایک نئی جماعت کو قائم کیا تا کہ وہ اسلام کو دنیا میں غالب کرے۔اگر ان منافقین