تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 89
٨٩ اللہ تعالیٰ کی عجیب حکمت ہے کہ جتنی گواہیاں ملی ہیں وہ بتاتی ہیں کہ یہ فقہ اس وقت اٹھایا گیا تھا۔جب مجھ پر بیماری کا حملہ ہوا تھا ۲۶ فروری 1900 ء کو مجھ سپہ بیماری کا حملہ ہو اتھا اور یہ باتیں مارچ 1900 ء کی ہیں۔لیکن ظاہر ہو میں 1904 ء میں آکر اور اب میں ان کا ہر طرح مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔گویا وہی رؤیا والی بات ہوئی۔ہجو میں نے اس عورت سے کہی تھی کہ تم نے بے خبری میں مجھے پر حملہ کر لیا تھا۔اب میں باخبر ہو چکا ہوں۔اگر اب تم مجھ پر حملہ کرو تو جانوں۔یہ کتنا بڑا نشان جو ظاہر ہو اپنے حضور نے خطبہ کے دوسرے حصہ میں احباب جماعت کو دعاؤں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے نصیحت فرمائی کہ : انہیں اس موقعہ پر ہوشیار رہنا چاہیے، اور چونکہ یہ معاملہ آسمانی ہے اس لئے انہیں دعاؤں میں لگے رہنا چاہیے کیونکہ منافق کا علاج سوائے خدا تعالیٰ کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔تمہارے بریز دیشن صرف اس کو ہوشیار کر دیتے ہیں۔مگر اللہ تعالی جو دلوں کا واقف ہے۔جانتا ہے کہ اس کی اصلاح کیسے کی جا سکتی ہے۔چنانچہ دیکھ لو۔جماعت کے متقی لوگ اب قسمیں کھا کھا کہ منافقوں کے متعلق شہار نہیں دے رہے ہیں۔لیکن ان سے کوئی پوچھے کہ وہ سال یا چھ ماہ تک کیوں خاموش رہے تھے۔؟ کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ کوئی لکھتا ہے سال ہوا میں نے یہ بات دیکھیں معنی اب میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اسے ظاہر کر دوں۔کوئی لکھتا ہے چھے ماہ ہوئے ہیں تے یہ واقعہ دیکھا تھا۔اب میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اسے ظاہر کر دوں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اس وقت تک خدا تعالے کا منشا یہ تھا کہ یہ معاملہ مخفی رہے۔اب اللہ تعالے نے ارادہ کیا ہے کہ اسے ظاہر کر دیا جائے۔گویا جب خدا تعالیٰ نے چاہا کہ پر سے " الفضل ، راگست ۶۱۹۵۶ ص۳۱۲