تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 80
A۔اس سلسلہ میں ایک عجیب اور بے مثال قربانی کا نمونہ دیکھتے ہیں یہ آیا ہے کہ وہاں کے احمدی دوستوں نے بھی جو خود اس بلائے ناگہانی میں مبتلا ہو چکے تھے۔ان لوگوں میں غلہ و غیره تقسیم کرنے کے علاوہ ۲۸۰ مرلہ زمین ان لوگوں میں مفت تقسیم کرنی شروع کر دی جن کے مکانات گر کر مستقل طور پر ندی کا طاس بن چکے تھے۔یہ زمین ایک محفوظ مقام پر ہے اور اس کی بازداری قیمت مبلغ سات صد روپے سے کم نہیں ہے۔اس قربانی کا سہرا غلام حسن خانصاحب کے سر ہے جنہوں نے محض لوجہ اللہ سیلاب زدگان میں مفت تقسیم کرنی شروع کردی۔اسی طرح دیہات میں ایک جگہ ساٹھ کرم لیے اور تین فٹ گہرے پانی میں خشک مٹی ڈال کو لوگوں کے لئے راستہ بنایا گیا۔جس سے بچوں، عورتوں کو ایک بڑی تکلیف سے نجات مل گئی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی مخلوق کی خدمت کرنے کی ہمیشہ تو فیق عطا فرمادے کہ یہی انسانیت کا معراج ہے۔عبد الواحد خاں انچارج کیمپ لیستی سند رانی ضلع ڈیرہ غازی خان (۲) - " ۱۹ اکتوبر ۱۹۵۵ء کو مجلس غدام الاحمدیہ گنج مغلپورہ کی دو امدادی پارٹیوں نے ڈاکٹر محمد حفیظ صاحب سابق اسسٹنٹ سرجن آزاد کشمیر کی زیر ہدایت محمود بوٹی بند سے میل کے رقبہ میں واقع دیہات موضع بھینی پار ، رت گڑھ ، قزل ، سنت نگر، آوان گیاں میں کشتی کے ذریعہ پہنچ کر اپنے امدادی کام کو جاری رکھا۔مجموعی طور پر ۶۱۶ افراد کو طبی امداد بہم پہنچائی اور ۶۰ آدمیوں کو مرہم پٹی کی گئی۔۱۰ اکتوبرش دار کو مجلس نے اپنے امدادی کام کو بدستور جاری رکھا اور شیخ اعجاز احمد صاب مجسٹریٹ متعینہ علاقہ محمود بوٹی کی زیر ہدایات موضع کر اول ، جھگیاں اور جیو کے میں کشتی کے ذریعہ پہنچ کر خوراک، ماچس ، چائے کے بنڈل اور موم بتیاں وغیرہ تقسیم کیں۔اس کے علاوہ مجلس نے ان دیہات میں دوائیاں بھی تقسیم کیں اور ۱۲۰ آدمیوں کو طبی امداد دی گئی ہے (۳) مرکز یہ خدام الاحمدیہ ربوہ سے ہم خدام پژشتمل ایک پارٹی سیلاب زدگان کی امداد کے لئے بھیجو کئی۔ان خدام نے ایک کیمپ شیخو پورہ سے میل دور لاہور کی جانب ے روز نامه" حلمت " لاہور ۱۳ ستمبر و اوست - سے "ملت" لاہور ۱۳ اکتور ۶۹۵