تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 79
گئے۔اور سلطان پورہ میں شکستہ مسجد اور مکانوں کی مرمت میں لوگوں کی امداد کی گئی۔علاوہ ازیں خدام کی ایک دوسری پارٹی نے کالا خطائی - ہیجڑ۔پکھیالی قلوستار شاہ۔دھو کا منڈی اور مانگٹانوالہ کے دیہات میں ہار جات اور ادویہ تقسیم کیں۔| (1) " سیلاب زدگان کی امداد " ۹ - اخبار ملمت “ لاہور سیلاب کے دوران میں جماعت احمدیہ نے جو کام کیا اس کا مختصر سا ذکر آپ کے اخبار میں کرنا چاہتا ہوں۔یہ اطلاع موصول ہوئی کہ ڈیرہ غازیخاں سے ۶۰ میل دور درہ سنگھڑ کے جنوب مشرقی کنارے سوکڑ۔مندرانی اور جھوک کھیوے والی بستیاں تباہ ہوگئی ہیں۔فیصلہ کیا گیا کہ بستی مندرانی میں سیلاب زدگان کا امدادی کام شروع کیا جائے چنانچہ زو خدام اور ان پر ایک نگران کو مقرر کر کے مبلغ دو صدر و پیر نقد اور دو تھان کپڑوں، کے دے کہ مذکورہ بالا مقام کی طرف روانہ کیا گیا۔ہم لوگ پہلے روز بارش میں بھیگتے ہو۔۱۳ میل تک بارش میں چلنے کے بعد پہاڑی نالوں کو جو بڑی تیزی سے تین تین چار چار فٹ گہرائی میں بہہ رہے تھے عبور کرتے ہوئے چار روز پیدل چل کر منزل مقصود پر پہنچے۔وہاں جا کہ ہم نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ حالتِ زار بیان سے باہر ہے مکان گر کر پیوند خاک ہو چکے تھے۔سب کچھے پانی کی نذر ہو چکے تھے اور خود مکین ایک اونچے پہاڑی ٹیلہ پر پناہ گزیں ہو چکے تھے۔بھوک سے نڈھال بچے بلبلا رہے اور اُن کے والدین نیم وا آنکھوں سے انہیں دیکھ دیکھ کر موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا تھے ہم نے وہاں جا کر بستی مند رانی کے ڈھائی صد افراد میں پانچ من آٹا گندم - تین من غله گندم - سات من غله جوار دو تھان کپڑوں کے۔آدھ من دال آدھے من گڑ اور ایک صد دور پیہ تقسیم کیا جو وہاں کے مصیبت زدہ لوگوں کے لئے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئے۔لہ "نوائے وقت“ یکم نومبر شاء من