تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 65 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 65

۶۵ 1962 رہی ہے مشرقی اور مغربی پاکستان کے سیلاب زدہ بھائیوں کی نقدی، پارچات اور ادویہ کی صورت میں بھر پور امداد کی۔اُس نے پہلے تو مشرقی پاکستان کے ستم رسیدہ بھائیوں کے لئے ایک ہزار روپے کا عطیہ دیا اس کے بعد نہ صرف مغربی پاکستان کے سیلاب زدہ عوام کی امداد کے لئے مجلس مرکز یہ کوبھی ایک ہزار روپیہ پیش کیا بلکہ ۱۲۵ اکتوبر ۱۹۹۵ء کو ناظم خدمت خلق مرزا محمد اکرم صاحب اور ایک خادم پرمشتمل وفد کے ذریعہ بڑی مقدار میں پارچات اور قیمتی ادویات مجلس مرکزیہ کے لئے روانہ کیں۔۱۶/ نومبر ۱۹۵۵ء کو مجلس۔کراچی نے مرکز میں کپڑوں کی ایک اور کھیپ روانہ کی۔اور نومبر ۱۹۵۵ء کو مجلس کراچی کے نوجوان ڈاکٹر محمد حسین صاحب ساجد نے ملتان اور شیخو پورہ میں دس روز تک شاندار طبی قدمات انجام دیں۔قائد مجلس نے گورنر جنرل پاکستان میجر جنرل سکندر مرزا ،گورنر مغربی پاکستان میاں مشتاق احمد گورمانی، وزیر اعلی ڈاکٹر خانصاحب اور صوبہ کے ریلیف کمشنر مٹر آئی یو خان کو بذریعہ تار کراچی کے محب وطن اور ایثار پیشہ احمدی نوجوانوں کی امدادی خدمات سے مطلع کیا جس پر گورنر جنرل پاکستان ، گورنر مغربی پاکستان اور فلڈ ریلیف کمشنر کی طرف سے قائد محلیس کے نام شکریہ کے خطوط موصول ہوئے جن میں مجلس کی مساعی کو سراہا گیا تھا۔لجنہ اماءاللہ کراچی نے بھی سیلاب زدگان کی امداد کے لئے پار چات کا گراں قدر عطیہ پیش کیا جو مجلس کراچی کی دوسری قسط کے ساتھ بغرض تقسیم مرکز میںبھیجوا دیا گیا۔ایک محتاط اندازے کے مطابق مجلس کراچی کو تقریباً نو دس ہزار روپے کی رقم بطور اعانت پیش کرنے کی توفیق ملی۔زلزلہ کوئٹہ کے موقع پر مجلس کی طرف سے دو صد روپے کی تو اعانت دی گئی وہ مزید برآں ہے۔(۱۳) - دیگر مقامات کے احمدیوں کی خدمات مندر یہ بانی جماعتوں یا مجاس مندم کے علاوہ دیگر مقامات کے احمدیوں نے بھی خدمت خلق کا ایسا عمدہ مظاہرہ کیا کہ صحابہ نیوٹی کی قدیم روایات اخوت پھر سے تازہ ہو گئیں۔مجلس آنیہ ضلع شیخو پورہ نے ایک غریب اور ایک بیوہ کے مکان تعمیر کئے۔ننکانہ کے احمدی جوان آنیہ کے امدادی کام میں ہاتھ بٹاتے