تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 64
کام کی نوعیت سے متعلق سروے کرنے کے لئے متاثر علاقہ میں پہنچی۔اگلے روز پارٹی نے فلڈ ریلیف آفیسر محترم راجہ محمد ایوب صاحب مجسٹریٹ سے ہدایات میں ہیڈ سندھنائی میں ریلیف سینٹر قائم کر دیا گیا۔جس نے چوہدری محمد امین صاحب اور ڈاکٹر محمد حسین صاحب ساجد ایم بی بی ایس سول ہسپتال کراچی کی نگرانی میں نمایاں طبی خدمات انجام دیں خدام کی پارٹیاں روزانہ ارد گرد کے دیہات میں ادویہ ، خوراک اور ضروریات زندگی کی اشیاء اور پار چات تقسیم کرتی تھیں جلد ہی ڈپٹی کمشنر صاحب ملتان اور فلڈ ریلیف کمیٹی ملتان کے صدر عبد الحمید صاحب پرنسپل امیر بین کارلج ملتان کا مخلصانہ تعاون حاصل ہو گیا جن کی زیر ہدایت ان امدادی کاموں میں وسعت پیدا ہوگئی۔یہ کام بے حد پیچیدہ اور شکل تھا مگر خدام ہر قسم کے خطرات سے بے پروا ہو کر اور پانی اور دلدل کے پر خطر راستوں سے گزرتے ہوئے اُن فاقہ زدہ اور نیم عریاں لوگوں کے پاس پہنچے جو اپنی جان بچانے کے لئے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ایک خادم کو رات سوتے وقت کسی زہر یلے جانوبہ نے کاٹ لیا مگر اس کے جاز بہ خدمت میں کوئی کمی نہ آئی۔ایک نوجوان کے پاؤں دلدل میں پھلتے چلتے سوج گئے اور آگے بڑھنا سخت دشوار ہو گیا لیکن انہوں نے منزل مقصود پر پہنچ کر ہی دم لیا۔ایک اور نوجوان کتے کے کاٹنے سے بری طرح زخمی ہوئے لیکن وہ اپنی مصیبت کو بھول کر مفوقہ خدمات سرانجام دیتے رہے۔بہر حال ان تمام مشکلات کے باوجود ملیس کے جواں تہمت رسا کار ہر ضروری اور اہم علاقہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔۱۹ اکتوبر سے ۵ر نومبر شراء تک مجلس کے نوجوانوں نے تین ہزار ایک سو پینیتا لیں افراد کو طبی امداد پہنچائی اور ایک ہزار اٹھائیں نفوس کو کھانے کی مختلف اشیاء دیں۔اس کے علاوہ مستحقین کو گندم ، مٹی کا تیں ، لیمپ وغیرہ بھی تقسیم کئے اور جب پانی کانی حد تک اُتر چکا تو احمدی رضا کاروں نے مکانات کی تعمیر کی طرف بھی توجہ دی اور بیسیوں مکانوں کا ملبہ صاف کیا اور کئی دیواریں اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیں۔(11) - کراچی (امیر: چوہدری عبد اللہ خان صاحب - قائد مجلس ہر مرزا عبد الرحیم بیگ صاب مجلس خدام الاحمدیہ کراچی نے جو ہمیشہ ہی ملتی خدمات میں بہت ممتاز