تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 63 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 63

نے سائیکلوں پر چالیس میں سفر کر کے مصیبت زدگان تک ضروری اشیا پہنچائیں دوسری پارٹی نے ہر پر کے آٹھ سو سے زائد افراد کو طبی امداد مہیا کی جس سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر بہت متاثر ہوئے اور خدام کو بصیر پورسیکٹر میں کام کرنے کا مشورہ دیا جہاں اس آفت سے بہت سے دیہات تباہ ہو گئے تھے۔چنانچہ خدام الاحمدیہ کی تیسری پارٹی بصیر پور میں پہنچ کر دس روز تک امدادی خدمات بجا لاتی رہی۔جس کی واپسی کے معا بعد 4 نومبر کو چوتھی پارٹی بھی اسی علاقہ میں بھجوائی گئی جس نے شبانہ روز کوشش سے بقیہ کام تکمیل تک پہنچا دیا۔خدام کو یہ سیکٹر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر صاحب کی طرف سے ایک ماہ کے لئے سپرد کیا گیا تھا۔مگرہ احمدی جوانوں نے پندرہ دن میں پورے سیکٹر کے دس ہزار مریضوں کو طبی ابداد پہنچا کہ اپنا فرض پورا کہ دیا۔سردی کے ان ایام میں خدام نے کھلے میدانوں میں راتیں بسر کیں اور روزانہ آٹھ دس میل پیدل سفر کر کے نہایت خندہ پیشانی سے مشکلات پر قابو پایا۔ڈاکٹرمحمد اکرم صاحب اسٹنٹ میڈیکل آفیسر انچارج بصیر پور سیکٹر نے خدام الاحمدیہ کی مساعی کو حسب ذیل الفاظ میں خراج تحسین ادا کیا : - م رضا کاران مجلس خدام الاحمدیہ نے بصیر پور سیکٹر میں منہ سے ماہ ۱۲ تک کام بہت محنت سے سر انجام دیا ہے۔میں ان سے بہت خوش ہوں ! دوستخط ،انگریزی ڈاکٹر محمد اکرم اسسٹنٹ میڈیکل آفیسر بصیر پور ) ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے بھی محلیس کے کام پر اظہار خوشنودی کہتے ہوئے سرٹیفکیٹ عطا کیا۔۱۲ نومبر کو کمشنر صاحب لمتان بصیر پور تشریف لائے اور احمدی جوانوں کی بہت تعریف کی۔۲۷ تومیر کو مجلس کی دو مزید پارٹیاں میدان عمل میں بھیجی گئیں۔ان پارٹیوں نے بھی تباہ حال اور اُجڑے ہوئے لوگوں کی خدمت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ہے (۱۰) ملتان (امیر : چوہدری عبد الرحمن صاحب - قائد خدام الاحمدیه به چوندی : عبد اللطيف صاحب )۔دار اکتوبر کو قیادت ضلع کی ایک پارٹی سیلاب کی تباہ کاریوں کا جائزہ لینے اور رسالہ " خالد" جنوری ۶۱۹۵۶ ۳۶ - ۳۸ **