تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 62 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 62

کیمپ کھول دیا۔یہ کیمپ پہلے ٹیموں میں تھا پھر اسے ریسٹ ہاؤس میں منتقل کر دیا گیا۔۱۴ اکتوبر کو پرنسپل صاحب نشتر کالج ملتان، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر صاحب، انسپکٹر صاحب پولیس کمالیہ اور چوہدری محمد نواز صاحب چیمہ مجسٹریٹ علاقہ کے مشورہ سے طے ہوا کہ مضافات کے کنوؤں کو فوری طور پر صاف کیا جائے تا جو لوگ پانی اُترنے کے بعد اپنے گھروں کو واپس ہوں ، وبائی امراض کا شکار نہ ہو جائیں۔صورتِ حال ایسی نازک تھی کہ حکومت کی طرف سے دوا کا فوری انتظام نہ ہو سکتا تھا۔مگر جذبہ خدمت سے سرشار احمدی جوانوں کے لئے یہ کوئی مسئلہ ہی نہ تھا۔انہوں نے از خود بیش پونڈ پوٹاشیم پر منگنیٹ خرید لی اور اپنے فلاکت زدہ بھائیوں کی خدمت کے لئے چار چار فٹ گہرے پانی میں پا پیادہ نکل کھڑے ہوئے اور پچیس میل کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ایک سوئیس کنوؤں کو دوائی ڈال کر قابلِ استعمال بنا دیا۔اس کے علاوہ کمالیہ احمدیہ ریلیف کیمپ نے ہزار مریضوں کو مفت دو امہیا کی اور پانچ سو افراد کو ٹیکے لگائے۔یہ واحد کیمپ تھا جس نے اس علاقہ میں اس وقت خادمانہ کوششوں کا آنا نہ کیا جبکہ یہار، کسی اور امدادی مرکز کا نام ونشان نہیں تھا اور اس وقت اپنی سرگرمیاں ختم کیں جبکہ دوسرے کیمپ اکھڑ چکے تھے۔10 اکتوبر کو احمدیہ کیمپ پیر محل کے چک نمبر 4 گ ب میں منتقل کر دیا گیا جہاں خدام کو متاثرہ دیہات کے ۹۲۱ بیماروں کو طبی امداد پہنچانے کی توفیق ملی۔یہ کیمپ ۲۸ اکتوبر ۱۹۵۵ء تک قائم رہاد (۹) بمنٹگمری (ساہیوال) ( رامیر جماعت چوہدری محمد شریف صاحب وکیل۔قائد مجلس ماسٹر عبد الحق صاحب ناصر ) اار اکتوبر کو منٹگمری سے ۱۷ میل دور ہڑپہ کا تاریخی قصبہ خطر ناک سیلاب کی زد میں آیا۔مجلس قدام الاحمدیہ نے پہلے تو اس قصبہ کے کئی بچوں اور عورتوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا پھر سیلاب زدگان کی امداد کے لئے پے در پے چھ پارٹیاں بھیجیں پہلی بار کھے کے رسالہ تعالی" جنوری ۸۹۵۱ ۳۵٫۳