تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 52 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 52

۵۲ کا جواب دوں اور جماعت احمدیہ کی اُن محب وطن کوششوں کا شکریہ ادا کروں جو انہوں نے سیلاب زدگان کے دُکھ درد کو دور کرنے کے لئے شروع کی ہیں۔دستخط ) رشید احمد پرائیویٹ سیکرٹری ہز ایکسیلینسی گورنر مغربی پاکستان ۱۷ اکتوبر ۱۹۵۵ء کیا کچھ مرکزی قیادت کی براہ راست نگرانی میں سب سے پہلی مجلس جو میدانِ عمل میں آئی وہ ربوہ کی مقامی مجلس خدام الاحمدیہ تھی جس نے شیخو پورہ کے سیلاب زدہ علاقہ میں مسلسل ایک ماہ یتک وسیع پیمانے پر امدادی خدمات انجام دیں۔۷ اکتوبر کو قائد ریکوہ کرم مولوی اولمن والحق صاحب کی پر زور تحریک پر ربوہ کے مختلف اداروں اور خدام نے جن میں ڈاکٹر اور عمار اور مستری بھی شامل تھے ، ذوق و شوق سے اپنی خدمات پیش کیں۔اگلے روز ۸ اکتوبر کی شام کو ندام الاحمدیہ ربوہ کا پہلا امدادی وفد مولوی محمد احمد صاحب ثاقب پروفیسر عامعه المبشرین (مہتم خدمت خلق کی زیر قیادت ربوہ سے روانہ ہو کہ صبح سات بجے شیخو پورہ پہنچا۔اس وفد نے اپر چناب ، چیچو کی ملیاں اور چک حیدر آباد میں کیمپ قائم کر کے مخلوق خدا کی خدمت کا حق ادا کر دیا۔جس پر اس علاقہ کی کئی مقتدر شخصیات نے اظہار خوشنودی کیا۔مثلا شیخو پورہ کے لائن پولیس آفیسر نے ۱۳ اکتوبر۱۹۵۵ء کو حسب ذیل سرٹیفکیٹ دیا۔امدادی کیمپ خدام الاحمدیہ مقیم ہیڈ خان پور جس کے انچارج مولوی محمد احمد ثاقب ہیں نہایت محنت اور جانفشانی سے کام کر رہے ہیں۔دن بھر مریضوں کے علاج اور بھوکوں کو کھانا کھلانے کا کام کرتے ہیں۔دیہات میں خود جا جا کر ڈوبتوں کو بچاتے ہیں۔میں ان کے کام سے بہت مسرور ہوں۔سرکاری افسران کے ساتھ بھی ان کا تعاون قابل رشک ہے۔کیمپ " جو کہ چیچو کی ملیاں میں مقیم ہے وہ بھی اپنے فرائض کی ادائیگی میں کسی سے کم نہیں ہے۔سب (لوگ) جماعت کی ان خدمات کے تہ دل سے شکر گزار ہیں " انچارج سیکٹر سید والا جناب ڈاکٹر عابد علی صاحب نے غدام کی مساعی پر دلی مسترت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا :۔" رضا کاران مجلس خدام الاحمدیہ نے سیکٹر ستید والہ میں ۵؍ نومبر سے ۱۴ نومبرتک